تازہ ترین

سیکیورٹی فورسز کا بونیر میں آپریشن، دہشت گرد سلیم عرف ربانی مارا گیا

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بونیر میں انٹیلی جنس...

کوئٹہ: تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے گئے 9 مسافر قتل

کوئٹہ:نوشکی کے قریب تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے...

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

’عمران خان کے استقبال کیلیے آنے والے لوگوں کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کے استقبال کے لیے آنے والے افراد کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے گزشتہ روز اسلام آباد کی عدالتوں میں مختلف مقدمات میں پیشی کے بعد کارکنوں پر جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کا مقدمہ درج کرنے اور متعدد افراد کی گرفتاری پر فواد چوہدری نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کیا ہے۔

فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان کے استقبال کیلیے آنے والے لوگوں کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ فسطائی حکومت کے قیام کے بعد کسی قانون اور قاعدے کا احترام باقی نہیں رہا۔

پی ٹی آئی رہنما مزید لکھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ دہشتگردی کے قانون کا سیاسی مخالفین کیخلاف استعمال غیر قانونی ہے۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کی اسلام آباد کی مختلف عدالتوں میں مقدمات پر پیشی کے موقع پر کارکنوں کی بڑی تعداد ان کا استقبال کرنے اور اظہار یکجہتی کے لیے آئی تھی۔

عمران خان کی پیشی کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ساہیوال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اے ٹی اے 353/7 اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ہجوم سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ سمیت افراد کو حراست میں لیا گیا، منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔

مقدمے متن کے مطابق سیاسی جماعت کے رہنما ہجوم کی قیادت کر رہے تھے، جماعت کے رہنما نے عوام کو توڑ پھوڑ پر اکسایا، جوڈیشل کمپلیکس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تاہم پولیس نے حکمت عملی سے ہائی کورٹ میں ایسے کسی ممکنہ اقدام کو روکا۔

اندراج مقدمہ کے بعد پولیس نے 25 افراد کو گرفتار کرلیا تھا جب کہ دیگر کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری تھی۔ پولیس کے مطابق گرفتاریوں کیلیے مختلف صوبوں میں پولیس ٹیمیں روانہ کر دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمپلیکس حملہ : عمران خان سمیت سب گرفتار ہوں گے، راناثناءاللہ

اس مقدمے کے اندراج کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان سمیت سب گرفتار ہوں گے۔ جب کہ آج صبح عمران خان سمیت 21 رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

Comments

- Advertisement -