site
stats
پاکستان

روہنگیا مسلمانوں کے لیے آزاد ریاست ہونی چاہئیے، مولانا فضل الرحمان

Fazal ur rehman

اسلام آباد : جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے آزاد ریاست ہونی چاہئیے، سی پیک کے بعد ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچارکیا گیا،  ڈونلڈٹرمپ کی پالیسی سےامریکی عزائم عیاں ہوگئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سی پیک کی صورت میں پاکستان چین کے وژن کاپہلا زینہ ہے۔

سی پیک کا منصوبہ چین سے تبت اور بنگلادیش سے ہوتا ہوا برما جائے گا، برما میں تیل اور معدنی ذخائر سب سے پرانے ہیں، سی پیک کے منصوبے کے بعد ملک کو سازش کے ذریعے سیاسی عدم استحکام سے دوچارکیا گیا۔

امریکہ خطے میں جغرافیائی تبدیلی چاہتا ہے

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے، امریکا اپنے مفاد کی خاطر خطے کی جغرافیائی صورتحال تبدیل کرنا چاہتا ہے، امریکا افغانستان سے فوج واپس بلانے کی بجائےمزید بھیج رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سے امریکی عزائم عیاں ہوگئے، دنیا میں ایک سرد جنگ شروع ہوچکی ہے۔

میانمار میں انسانیت کی تذلیل ناقابل بیان ہے

مولانافضل الرحمان نے برما کی حالیہ صورتحال پر کہا کہ جس طرح میانمار میں انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے ناقابل بیان ہے، ہما را مطالبہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے آزاد ریاست ہونی چاہیے، اتنی سفاکی اور بربریت پر دنیا خاموش ہے، امریکا اور یورپ ایک واقعے پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترک صدر طیب اردگان نے نے روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر آواز اٹھائی، ہمیں بھی ترک صدرجیسا کردار ادا کرنا چاہئے، آج ہم اکیلے نہیں پوری قوم ہمارے ساتھ ہے، ہمیں اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اوآئی سی سےخیرکی توقع نہیں رکھنی چاہئے، او آئی سی خود اس وقت آئی سی یو میں ہے۔

 


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top