The news is by your side.

Advertisement

“آپ کے اندر ایک خلا ہے!”

آپ کا جسم ایک مجموعہ ہے۔ آپ کا کچھ حصہ آپ کی ماں کی طرف سے آیا ہے، کچھ حصہ باپ کی طرف سے اور باقی سب کچھ کھانے پینے سے۔ یہ آپ کا کُل جسم ہے۔

تلاش کریں کہ دماغ میں تو کوئی ذات نہیں ہے؟ اگر آپ بہت گہرائی میں چلے جائیں تو دیکھیں گے کہ آپ کی پہچان ایک پیاز کی طرح ہے۔ آپ ایک چھلکا اتاریے تو دوسرا آجائے گا۔ دوسرا اتاریے، تیسرا آجائے گا۔ اور آخر کار کچھ بھی نہیں بچے گا۔

تمام چھلکے اتار دیجیے، اندر سے کچھ بر آمد نہیں ہوگا۔ جسم اور دماغ پیاز کے مانند ہیں۔ آپ دونوں کو چھیلتے جائیے تو اندر سے کچھ نہیں نکلے گا۔ سوائے ایک مہیب اور لا محدود خلا کے۔ جس کو بدھا نے ”شنیہ“ یعنی صفر کہا ہے۔

اس صفر کو، اس مہیب خلا کو فتح کرنا خوف کو جنم دیتا ہے۔ خوف اصل میں یہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم استغراقی سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں باتیں ضرورت کرتے ہیں، لیکن اس سمت میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے۔

آپ کو پکا یقین ہے کہ وہاں ایک لا محدود خلیج ہے، مگر اس خوف سے چھٹکارا نہیں پاتے۔ آپ جو چاہیں کرلیں، خوف باقی رہے گا، جب تک آپ اس پر قابو نہیں پالیتے۔ بس ایک یہی طریقہ ہے۔

اگر ایک بار آپ اپنے عدم کو فتح کرلیں۔ جب ایک بار آپ کو علم ہوجائے کہ آپ کے اندر ایک خلا ہے، ایک صفر ہے۔ تب آپ کو کوئی خوف نہیں رہے گا۔

اس کے بعد خوف باقی نہیں رہ سکتا۔ کیوں کہ یہ صفر، یہ خلا تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ خلیج پاٹی نہیں جاسکتی۔ وہ جس کو موت آسکتی تھی اب باقی نہیں، اس کی حیثیت پیاز کے چھلکے جیسی تھی۔

(گرو رجنیشں، ”مخزنِ راز“ سے انتخاب)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں