The news is by your side.

Advertisement

وفاقی حکومت کا بھی ڈینئل پرل قتل کیس میں فریق بننے کا فیصلہ

اسلام آباد: ترجمان اٹارنی جنرل آفس نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی ڈینئل پرل قتل کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل آفس نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں ڈینئل پرل قتل کے مقدمے میں فریق بننے کی درخواست کرے گی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نظرثانی کیس کی سماعت کے لیے لارجر بنچ کی استدعا کرے گی۔

یاد رہے کہ 28 جنوری کو سپریم کورٹ نے ڈینئل پرل کیس میں سندھ حکومت کی ملزمان کی رہائی روکنے کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا، ملزمان میں احمد عمر شیخ، فہد نسیم، سلمان ثاقب اور محمد عادل شامل ہیں، سندھ حکومت کی اپیل پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی تھی۔

ڈینئل پرل کیس : سندھ حکومت کی اپیلیں مسترد، ملزمان کو بری کرنے کا حکم

خیال رہے کہ اپریل 2020 میں سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں مقدمے میں نامزد احمد عمر شیخ کے علاوہ باقی تینوں ملزمان کو عدم شواہد پر بری کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا، تاہم صوبائی حکومت نے اپنے اختیارات کے تحت ملزمان کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

احمد عمر سعید شیخ

امریکا نے ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی پر اظہار تشویش کیا، وائٹ ہاؤس نے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ڈینئل پرل کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے 38 سالہ جنوبی ایشیا کے بیورو چیف ڈینئل پرل کو پاکستان میں 2002 میں اغوا کر کے قتل کیا گیا تھا، وہ القاعدہ سے متعلق ایک اسٹوری پر کام کر رہے تھے۔

گزشتہ روز سندھ حکومت کی جانب سے ڈینئل پرل کیس میں احمد عمر شیخ کی رہائی کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کی گئی ہے، یہ درخواست پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت یکم فروری کو ہوگی، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ سماعت کرے گا، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منیب اختر اس بنچ کا حصہ ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں