پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان نے حجاب تنازع پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
فیروز خان نے ویڈیو اینڈ فوٹو شیئرنگ اپیلی کیشن انسٹا گرام پر اسٹوری اپ ڈیٹ کی۔ اداکار نے بھارت کی ویڈیو لگائی جس میں باحجاب خاتون ٹیچر کو اسکول میں داخلے سے قبل حجاب اور برقع اُتروایا جا رہا ہے۔
فیرز خان نے اسٹوری میں لکھا کہ شرم آنی چاہیے ان کو جو ظلم کیخلاف نہیں بول رہے، یہ لوگ تقریباً کسی بھی گھٹیا پن کے لیے کھڑے ہوں گے اور اس کا جواز پیش کریں گے لیکن یہ خواتین کو خود کو ڈھانپنے کے اس طرح کے بنیادی حق کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔
مزید پڑھیں: فیروز خان اور علیزے کے گھر ننھی پری کی آمد
اداکار نے کہا کہ درحقیقت یہ وہ وقت ہے جب ایمان کو تھامنا جلتے ہوئے کوئلے کو تھامے رکھنے کے مترادف ہے۔
گزشتہ روز ٹوئٹر پر محمد زبیر نامی بھارتی صحافی نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریاست کرناٹک کے اسکول میں باحجاب مسلمان طالبہ ہندو انتہا پسندوں سے خوفزدہ ہو کر بھاگ رہی جب کہ میڈیا کے کارکنان اس کا پیچا اور ویڈیوز بنا رہے ہیں۔
IT WAS NEVER ABOUT THE UNIFORM: Muslim teachers and staff being publicly humiliated to remove their #hijab before entering school campus.#KarnatakaHijabRow pic.twitter.com/T99Xp5VHTK
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 14, 2022
ایک اور ویڈیو میں دیکھا گیا کہ طالبات کالج میں داخل ہو رہی ہیں جب کہ ہندو انتہا پسند نعرے بازی کر رہے ہیں۔ طالبات کے شکایت کرنے پر اسکول پرنسپل نے الٹا طالبات کا حجاب اتروا دیا۔
See how a School kid with Hijab is being followed/Chased by a "REPORTER" in Karnataka. 🤢#KarnatakaHijabRow pic.twitter.com/DSNDxXRcJW
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 15, 2022