site
stats
خیبر پختونخواہ

کھاد پرسبسڈی وفاق اورصوبے مل کر دیں گے، کے پی کے کا انکار

لاہور : وزیراعظم کے احکامات کے بعد کھاد پر 400 روپے فی بوری سبسڈی پر عمل درآمد شروع کردیا گیا، احکامات کے مطابق آدھی سبسڈی وفاق اور آدھی صوبے فراہم کریں گے، کے پی کے حکومت نے فراہمی سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ ماہ عوامی اور سیاسی ردعمل کے بعد کھاد پر ختم کی گئی سبسڈی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا حکم دیا تھا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چار سو روپے فی بوری پر دو سو روپے وفاق اور دو سو روہے صوبے سبسڈی دیں گے۔

اس حوالے سے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے معاہدہ طے پا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اس پروگرام میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

کھاد پر آدھی سبسڈی دینے سے انکار کرتے ہوئے کے پی کے حکومت کا مؤقف ہے کہ وفاق پوری سبسڈی فراہم کرے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جنوری میں کھاد پرسبسڈی ختم کی گئی تھی جس پر کاشت کاروں نے اسے مسترد کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔

بعد ازاں کاشت کاروں کے احتجاج پر وزیراعظم نواز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے یہ ہدایت کی تھی کہ ملکی معیشت کی بہتری میں کسانوں کا کردار بہت اہم ہے اس لیے سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے سبسڈی بحال رکھی جائے۔

مزید پڑھیں : وزیراعظم کا کھاد پر ختم کی گئی سبسڈی کی بحالی کا حکم

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی کھاد پر سے سبسڈی ختم کرنے کے عمل کو انتہائی نامناسب اقدام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت آگ سے کھیل رہی ہے، کھاد پر سے ختم کی گئی سبسڈی فوری بحال کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top