site
stats
پاکستان

مؤثرحکمت عملی کے بغیر دہشتگردی کا مقابلہ ممکن نہیں، علی محمد خان

اسلام آباد : جب تک ہم سب دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہو کرکوئی عملی قدام نہیں اٹھاتے دہشت گردی کے ناسور سے نکلنا ممکن نہیں, کیا ہم صرف مرثیہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے رہیں گے؟ کیا پچھلے حادثے کو بھول کر اگلے حادثے کا انتظار کیا جائے؟

ان خیالات کا اظہار رہنما پاکستان تحریک انصاف علی محمد خان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف سے پنجاب میں حالیہ دہشت گردی کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رہنما ایم کیو ایم ریحان ہاشمی اور پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی بھی موجود تھیں۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملٹری کورٹ ناگزیر ہے۔ دو سال قبل کریمنل جسٹس سسٹم اور سویلین عدالتوں کی بہتری کی بات ہوئی تھی لیکن گزشتہ دو سالوں میں کچھ بھی کام نہیں ہوا اور نہ ہی آئندہ بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ جنگ صرف فوجی جوان کی ہے جو ہر روز شہید ہورہے ہیں ؟

علی محمد خان نے کہا کہ ان حالات میں سب سے زیادہ ذمہ داری وزیراعظم کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم کا کیا بنا ؟ نیشنل ایکشن پلان پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا؟ پنجاب میں دہشت گردوں کے ساتھ موثر انداز سے نمٹنے کا فیصلہ ہوا تھا کیوں اس فیصلے پر عمل نہیں ہوا ؟ فاٹا اصلاحات پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں پہلی بارہمارے ملک میں خود کش دھماکے شروع ہوئے اس زمانے میں کوئی دھماکہ ہوتا تو سارے ملک میں کہرام مچ جاتا تھا لوگ پریشان ہوتے تھے۔ اب حالات یہ ہیں کہ نوالہ منہ پہ جارہاہے اور سامنے لاشیں بکھری پڑی ہوتی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ ہمارا دشمن یہی چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد قوم منقسم ہو ۔ یہی کچھ آج بھی ہورہا ہے ۔ کیا ہمیں یہ علم نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے لند ن اسکول آف اکنامکس میں جاکر یہ کہا تھا کہ طالبان کے حوالے سے مجھ سے اور میری حکومت سے غلطی ہوئی تھی۔

کیا سوات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں طالبان سے مذاکرات نہیں ہوئے تھے ؟ بلدیہ ٹاﺅن کا حادثہ، 12مئی کا سانحہ جس میں وکیلوں کو زندہ جلایا گیا تھا کراچی کی گلیوں میں لوگوں کو قتل کیا گیا ۔ سوال مشرف ، ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی اٹھ رہے ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ پرانی باتوں کو بھول کر ہمیں آگے بڑھنے کی حکمت عملی اختیار کرناچاہئے۔ آج ملک کو بڑے بڑے منصوبوں کی ضرورت نہیں یہ سب بند کرکے ساری توجہ دہشت گردی پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

سانحہ اے پی ایس سے قبل عمران اور نواز ایک پیج پر تھے ،شرمیلا فاروقی

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پاکستان پیپلزپارٹی شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک اسکول پر حملے سے قبل عمران خان اور میاں نواز شریف طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈھونک رچارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آرمی پبلک اسکول کا بدقسمت سانحہ رونما نہ ہوتا تو عمران خان اور میاں نواز شریف دونوں ایک پیج پرتھے۔

اچھے طالبان اوربرے طالبان کا تصور ان کے ذہنوں میں راسخ تھا، مذاکرات کئے جارہے تھے ،مذاکرات کے نام پر ڈیڑھ سال ضائع کردیا، ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے جب 2013ء کے انتخابی عمل میں عمران خان طالبان سے مطالبہ کررہے تھے کہ آپ رک جائیں اور ہمیں انتخابی مہم چلانے کا موقع دیں۔

پنجاب میں میاں شہباز شریف بھی طالبان سے مطالبہ کررہے تھے کہ پنجاب کو چھوڑ کر باقی ملک میں جو کرنا ہے کریں۔ خیبر پختونخواہ میں طالبان کو دفتر کھولنے کی بات کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو ببانگ دہل دشمن کہنا ہوگا۔ کراچی ، لاہور سمیت ملک کے بڑے بڑے شہروں میں اگر ایسے حالات ہیں تو دور دراز کے علاقوں کی کیا صورتحال ہوگی؟ اب یہ قوم بیانات سے تھک چکی ہے قوم روزانہ اپنے عزیزوں کی میتیں اٹھا رہی ہے۔

آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ملک میں ہر تیسرے چوتھے روز الرٹ جاری ہوتا ہے ۔ پنجاب میں رینجرز بھیجنے کی مخالفت ہورہی تھی ۔ وہاں کے وزیر داخلہ کو شہید کردیا گیا لیکن حکومت کو پھر بھی سمجھ نہیں آئی ۔نواز شریف خود کو صرف پنجاب کا وزیر اعظم سمجھتے ہیں ۔ یہاں حالت یہ ہے کہ پولیو ٹیموں کو بھی نہیں بخشا جارہاہے ۔

پی پی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونا بڑی غلطی تھی ، ریحان ہاشمی

اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے خلاف ایم کیو ایم کے وائٹ پیپرز سے متعلق پوچھے گئے سوال پر رہنما متحدہ قومی مومنٹ پاکستان ریحان ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس وائٹ پیپرز میں ہم نے حکومت سندھ کی کرپشن، اداروں کی تباہ حالی اور من مانیوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونا ہماری بہت بڑی غلطی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے سندھ میں وسائل کی تقسیم درست طریقے سے نہیں ہورہی ہے صوبائی حکومت وفاق سے تو فنڈز کا تقاضہ کرتی ہے، لیکن اپنے صوبے میں فنڈز شہروں اور اضلاع کو نہیں دئیے جارہے ہیں۔سندھ میں کوٹہ سسٹم چھ سال کے لئے لایا گیا تھا۔

چالیس سال گزرنے کے بعد بھی وہ نظام رائج ہے۔ 1973ءکے آئین میں مقامی حکومتوں کے قیام کو جمہوریت کے لئے ناگزیر قرار دیاگیا تھا آج بھٹو کے نام پر سیاست کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بانی کے بنائے ہوئے آئین سے روگردانی کررہی ہے۔

سندھ اسمبلی سے ایک ایکٹ پاس کروا کر مقامی حکومتوں کے اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ 1973کے آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔صوبے میں تمام تر ٹیکس شہری علاقوں پر عائد ہے اندروں سندھ وڈیروں اور جاگیرداروں کو ٹیکس نیٹ ورک میں نہیں لایا جارہاہے۔میئرکو اختیارات نہیں دیئے گئے۔

ریحان ہاشمی نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلا ن کا کیا بنا ۔ نیکٹا کہا ں ہے اس کا کیا بنا ۔ پنجاب میں دہشت گردوں کے اڈوں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں ہورہی؟ 2013ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی، متحدہ قومی مومنٹ اور اے این پی کو ٹارگٹ کیا گیا باقی جماعتوں کو کھلی چھوٹ تھی۔ ابھی تک مدرسہ ریفامز نہیں ہوئے ۔آج بھی سیاسی جماعتوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو دہشت گردوں کی ہمنوائی کررہے ہیں۔

سات سال تک ایم کیو ایم اتحادی رہی اس وقت تو کرپشن نظر نہیں آئی۔ شرمیلا فاروقی

شرمیلا فاروقی نے ایم کیو ایم (پاکستان) کے ان وائٹ پیپرز میں لگائے گئے الزامات کے جواب میں کہا کہ سات سال تک ایم کیو ایم سندھ میں ہماری اتحادی رہی اس دوران صوبے میں ان کو کوئی کرپشن نظر نہیں آئی ۔پچھلی حکومت میں ان کے پاس صحت، صنعت، آئی ٹی او راوقاف کی وزارتیں تھیں۔ بلکہ ایک دور ایسا بھی تھا جب ایم کیو ایم کے ایک وزیر کے پاس پانچ پانچ وزارتیں ہوتی تھیں۔ اور وہ اپنی وزارتوں میں مکمل خودمختار تھے لیکن انہوں نے کیا بہتری لائی۔

کابینہ کے اندر کبھی بھی ان الزامات پر بحث نہیں کی۔ ایک سال بعد الیکشن ہونے جارہے ہیں اور ایم کیو ایم الیکشن موڈ میں میدان میں اتری ہے ۔ اگر نائن زیرو پررینجرز کا چھاپہ نہ ہوتا تو ایم کیو ایم دوبارہ سندھ حکومت میں شامل ہوجاتی۔

ایک سوال پر کہ کیا ایم کیو ایم پاکستان الیکشن کے سلسلے میں وائٹ پیپرز جاری کردئیے ہیں علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کوئی ڈیل کرناچاہتی ہے۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ وفاقی حکومت کی کرپشن پر ایم کیو ایم کیوں خاموش ہے؟

وفاقی حکومت کے خلاف کیوں وائٹ پیپر جاری نہیں کرتے ؟اگر ایم کیو ایم کرپشن کے خلاف ہے تو وفاقی حکومت کے کرپشن کے خلاف بھی وائٹ پیپر جاری کریں۔ کرپشن جہاں کہیں بھی ہے غلط ہے۔

ریحان ہاشمی نے کہا کہ شرمیلا فاروقی نے افسانوی باتیں کیں ہیں ہمارے پاس سندھ حکومت کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں ۔وائٹ پیپر میں سارے اعداد وشمار دئیے گئے ہیں۔

شرمیلا فاروقی نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی خدمات کو دوبارہ وفاق کو دینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ آئی جی سندھ 21گریڈ کا آفیسر ہوتا ہے اور اے ڈی خواجہ عدالتی فیصلے کے بعد گریڈ 20 میں چلے گئے ہیں تو ان کو آئی جی رکھنا رولز کے مطابق ممکن نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اے ڈی خواجہ نے اپنے دور میں سندھ کے اندر بہت سارے اچھے کام کروائے ہیں۔ ریحان ہاشمی نے کہا کہ سندھ حکومت اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔ پولیس کو آزاد نہیں کیا گیا ۔ رینجر ز کی موجودگی کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top