The news is by your side.

Advertisement

کار ڈرائیور کی بیٹی ناصرہ جس نے "رانی” کے نام سے شہرت حاصل کی

رانی کا اصل نام ناصرہ تھا جو اپنے وقت کی مشہور گلوکارہ مختار بیگم کے ڈرائیور کی بیٹی تھی۔ رانی کو مختار بیگم نے پالا اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے رانی نے رقص سیکھا اور بطور اداکارہ فلمی دنیا میں قدم رکھا جہاں شہرت اور مقبولیت اس کا مقدر بنی، لیکن رانی اپنی ازدواجی زندگی کے دکھوں اور صدمات سے ایسی نڈھال ہوئی کہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوگئی اور زندگی کا سفر تمام کیا۔

1941 میں‌ لاہور میں‌ پیدا ہونے والی رانی اردو اور پنجابی فلموں کی مصروف اداکارہ تھی۔ اردو فلموں کی بات کریں تو بطور اداکارہ رانی کی پہلی فلم ہدایت کار انور کمال پاشا کی فلم محبوب تھی جس میں وہ شمیم آرا کے مقابل ثانوی رول میں نظر آئی تھی۔ یہ 1962 کی بات ہے اور اس کے بعد کئی فلموں‌ میں مختلف کردار ادا کیے، لیکن دیور بھابھی جو 1967 میں سنیما کی زینت بنی تھی، وہ مشہور فلم تھی، جس نے اداکارہ کو فلم انڈسٹری کی "رانی” بنا دیا۔ اس فلم میں وحید مراد اور لیجنڈ اداکارہ صبیحہ خانم نے ٹائٹل رولز کیے تھے۔ بعد میں رانی نے دل میرا دھڑکن تیری، بہن بھائی، دیا اور طوفان، شمع اور پروانہ، بہارو پھول برساؤ، امراؤ جان ادا، اک گناہ اور سہی، خون اور پانی جیسی کام یاب فلموں میں‌ اداکاری کے جوہر دکھا کر شائقین کے دل موہ لیے۔

پنجابی فلموں کی بات کریں تو رانی کو فلم چن مکھناں سے بریک تھرو ملا تھا جب کہ دوسری بڑی پنجابی فلموں میں سجن پیارا، جند جان، مکھڑا چن ورگا، دنیا مطلب دی، ٹیکسی ڈرائیور اور سونا چاندی قابلِ ذکر ہیں۔ اردو فلموں میں کمال، وحید مراد اور شاہد کے ساتھ رانی کو بہت پسند کیا گیا۔

رانی نے 27 مئی 1993ء کو یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی تھی۔ اداکارہ کی ازدواجی زندگی سکون اور راحت سے محروم رہی۔ انھوں نے تین شادیاں کی تھیں۔ اداکارہ پر فلمائے ہوئے تمام ہی گیتوں نے مقبولیت حاصل کی۔ انھوں نے ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں‌ بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان میں‌ خواہش اور فریب بہت مشہور ہیں۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کی اس مشہور اداکارہ کو لاہور میں مسلم ٹاؤن کے قبرستان میں سپردِ‌ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں