The news is by your side.

Advertisement

عالمی شہرت یافتہ فلم ساز اور ہدایت کار اکیرا کوروساوا کی کہانی

بعد از مرگ اکیرا کوروساوا اُن ایشیائی شخصیات کی فہرست میں شامل ہوئے، جن کا نام ادب، فنون اور ثقافت میں ان کے تخلیقی وفور اور کمالِ فن کی بدولت امر ہو گیا۔ انھیں بیسویں صدی کے ان آرٹسٹوں شامل کیا گیا جنھوں نے ایشیائی ممالک میں فن و ثقافت کی ترویج اور ترقّی میں کردار ادا کیا اور اپنا گہرا اثر چھوڑ گئے۔ تاہم یہ ان کا پہلا اعزاز نہیں‌ تھا۔

انگریزی زبان کے مقبول ترین جریدے ایشین ویک کی اس فہرست میں شامل ہونے سے پہلے زندگی ہی میں انھیں اعزازی اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا جا چکا تھا۔

اکیرا کوروساوا کا تعلق جاپان سے تھا۔ وہ 1910ء میں پیدا ہوئے اور ان کی زندگی کا سفر 6 ستمبر 1998ء کو تمام ہوا۔

وہ عالمی سطح پر ایک قد آور فن کار اور نہایت قابل فلم ساز مانے گئے۔ ہدایت کاری کے شعبے میں اکیرا کوروساوا کا امتیاز ان کی فلموں کی عکس بندی تھی۔ ان کی فلمیں دیکھنے پر لگتا کہ مناظر عکس بند نہیں کیے گئے بلکہ انھیں ایک باکمال موسیقار کی طرح خوب صورتی سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس جاپانی فلم ساز اور ہدایت کار کا عکس بند کیا ہوا ہر منظر مربوط اور ایسا نپا تُلا ہوتا کہ سنیما بین شروع سے آخر تک کہانی میں محو رہتا۔

انھوں نے 1936ء میں فلم انڈسٹری میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ فلم ڈائریکٹر اور منظر نگار کی حیثیت سے ان کا یہ سفر 57 سال پر محیط رہا جس میں انھوں نے لگ بھگ 30 فلمیں بنائیں اور اپنے کام کی بدولت عالمی سطح پر بھی شناخت بنائی اور خوب شہرت حاصل کی۔

1950ء سے 1960ء کے دوران تقریباً ہر سال انھوں نے اپنی ایک فلم ضرور مکمل کی۔ ’سیون سمورائے‘، ’رین‘ اور ’دا ہڈین فورٹریس‘ ان کی لازوال فلمیں ہیں۔

وہ ایک ایسے فلم ساز تھے جس کے نزدیک اسکرپٹ رائٹر ہی نہیں‌ اچھّے ہدایت کار کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ وسیع ہو، وہ ناول پڑھے اور بالخصوص روسی ادب کو پڑھتا ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں