ہفتہ, جون 22, 2024
اشتہار

پاکستانی فلمی صنعت کے معروف موسیقار اے حمید کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف موسیقار اے حمید 20 مئی 1991ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ موسیقار کی حیثیت سے اے حمید کی شہرت کا آغاز فلم سہیلی سے ہوا تھا جس کے ہدایت کار ایس ایم یوسف تھے۔

فلم انجام کے طفیل اے حمید پہلی مرتبہ انڈسٹری میں متعارف ہوئے تھے اور سہیلی کی کام یابی کے بعد بطور موسیقار انھوں نے کئی لازوال دھنیں تخلیق کیں اور ان فلموں کے گیت مقبول ہوئے۔

اے حمید کا پورا نام شیخ عبدُالحمید تھا۔ وہ 1924ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ محمد منیر موسیقی کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے اور انھوں نے دو فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی۔ یوں اے حمید میں بھی سُر ساز، موسیقی اور گائیکی کا شوق پیدا ہوا۔ والد کی وجہ سے فلم نگری کا راستہ تو دیکھ ہی چکے تھے اور جب اس فن میں اپنی صلاحتیوں کو آزمانے کا موقع ملا تو اے حمید نے خود کو ثابت کر دکھایا۔ اوّلین فلموں کے بعد اے حمید نے کام یاب موسیقار کی حیثیت سے رات کے راہی، اولاد، آشیانہ، شریکِ حیات، پیغام، دوستی، جواب دو، ثریا بھوپالی، انگارے، بیگم جان اور نیا انداز کی موسیقی ترتیب دی۔ اے حمید کو بہترین موسیقار کا نگار ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ انھیں "چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے” جیسے خوب صورت اور مقبول عام گیت کی دھن تخلیق کرنے پر دیا گیا تھا۔ پاکستانی فلموں کے کئی مقبول گیتوں میں "ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے، کہیں دو دل جو مل جاتے بگڑتا کیا زمانے کا، تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی، کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا، یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہ زادیاں” بھی شامل ہیں جن کی دھنیں اے حمید نے بنائی تھیں۔

- Advertisement -

پاکستان فلم انڈسٹری کے اس معروف موسیقار نے اردو کے علاوہ پنجابی زبان میں بننے والی فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دی۔ موسیقار اے حمید راولپنڈی کے ایک قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں