The news is by your side.

ٹیکس دائرہ کار میں توسیع کے آرڈیننس پر وزیر خزانہ کی وضاحت

کراچی: ٹیکس دائرہ کار میں توسیع کے آرڈیننس پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے وضاحت کی ہے کہ اس آرڈیننس کا مقصد ہراساں کرنا نہیں، کے سی سی آئی کے انڈر فائلرز پر خدشات دور کیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ممتاز کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک اجلاس میں وزیر خزانہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آرڈیننس کا مقصد کسی کو متاثر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ آرڈیننس خالصتاً نان فائلرز اور انڈر فائلرز کے لیے ہے جو زیرو ٹیکس فائل کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا یہ بات باعث تشویش ہے کہ 2.9 ملین کے مجموعی فائلرز میں سے 10 لاکھ ایسے ہیں جو ریٹرن تو فائل کرتے ہیں لیکن کوئی انکم ظاہر نہیں کرتے جس پر ٹیکس کا اطلاق ہو۔

شوکت ترین نے کہا ہم آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے مدد لینے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے ذریعے بینکنگ لین دین کی سرگرمیوں کے ساتھ بجلی، گیس، ٹیلی فون کے بلوں کی جانچ پڑتال ممکن ہوگی اور انڈر فائلرز کی شناخت کرنے میں مدد ملے گی، جن سے تیسرے فریق کے ذریعے کہا جائے گا کہ وہ اپنے ٹیکس جمع کروائیں۔

انھوں نے کہا ڈی ایل ٹی ایل بند نہیں کیا گیا، تمام کلیمز بروقت ادا کیے جائیں گے، اور تمام زیر التوا پالیسیوں کی ڈیڈ لائن دی جائے گی، 32 ارب کے زیر التوا کلیمز بھی 6 ماہ میں ادا کر دیے جائیں گے، کراچی چیمبر کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جائے گا، کراچی کے خستہ حال انفرا اسٹرکچر پر خدشات بھی وزیر اعظم تک پہنچائیں گے۔

اجلاس میں سابق صدر کے سی سی آئی زبیر موتی والا نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیا آرڈیننس ہراساں کرنے اور بدعنوانی کے مزید راستے کھولے گا۔

انھوں نے افغانستان کے ساتھ روپے میں تجارت کی اجازت دینے پر وزیر خزانہ کو آگاہ کیا کہ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے متعلقہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا اور افغانستان کے ساتھ تجارت 60 فی صد کم ہو گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں