The news is by your side.

Advertisement

بلیک ہول کی پہلی تصویرجاری کردی گئی

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ نے انسانی تاریخ میں پہلی بار بلیک ہول کی تصویر جاری کردی ہے، لیکن کیا یہ واقعی بلیک ہول کی تصویر ہے۔

یہ تصویر ناسا کے زیر اہتمام ادارے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کی جانب سے جاری کی گئی ہے، یہ بلیک ہول ایم 87 ورگو اے کے نام سے پہچانی جانے والی کہکشاں کے وسط میں واقع ہے۔

عالمی ادارے کا دعویٰ ایک طرف لیکن پرائمری کی سائنس جنہیں یاد ہے وہ جانتے ہیں کہ بلیک ہول ایک ایسے فلکی جسم کا نام ہےجس کی بے پناہ کشش ِ ثقل کے سبب کوئی بھی شے اس میں سے نہیں گزر سکتی ، حتیٰ کہ روشنی بھی نہیں اور روشنی کسی بھی شے کی تصویر کھینچنے کے لیے لازمی عنصر ہے۔

آئن اسٹائن ہمیں بتاچکے ہیں کہ کوئی بھی شے روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کرسکتی اور بلیک ہول کی تصویر لینے کے لیے ضروری ہے کہ روشنی اپنی موجودہ رفتار یعنی 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ سے بھی تیز سفر کرے، جو کہ ممکن نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ بلیک ہو ل کو دیکھ لیا جائے۔

پھر بین الاقوامی سائنسد اں اسے بلیک ہول کی تصویر کیوں قرار دے رہے ہیں۔ پہلے ذرا ایک بار غور سے تصویر کو دیکھیے۔ یہ تصویر بالکل ایسی ہی ہے جیسا کہ کوئی ڈونٹ، درمیان میں ایک سیاہ دھبا اور اس کے گرد روشنی ۔

سائنس دانوں نے جو تصویر لی ہے وہ درحقیقت اس کے ارد گرد موجود روشنی کی ہے ، اور اس روشنی کےدرمیان موجود بلیک ہول جو کہ اس کہکشاں میں موجود ہر شے کو نگلنے کے صلاحیت رکھتا ہے ، روشنی کے اس دائرے کے اندر واقع ہے ، یوں سمجھ لیں کہ جہاں پر روشنی کااندرونی ہالہ ختم ہورہا ہے ، وہ سارا علاقہ بلیک ہول ہے۔

اب ذرا یہ بھی جان لیں کہ آخر یہ روشنی ہے کیا۔ بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل کے اثرات اس کے ارد گرد ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوتے ہیں جسے ایونٹ ہورائزن یا ’واقعاتی افق‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کسی بھی بلیک ہول کے گرد یہ واقعاتی افق نہ ہو تو وہ بلیک ہول تنہا پوری کائنات کو ہڑپ کرجائے ۔ واقعاتی افق سے دور جاتے ہوئے، بلیک ہول کی کششِ ثقل بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے؛ اس لیے کسی بلیک ہول سے دور دراز مقامات پر موجود اجسام پر اس کشش کے اثرات بھی اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ انہیں بہ مشکل ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

فلکیاتی اجسام جو کسی بلیک ہول کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں،جیسے جیسے واقعاتی افق کے قریب پہنچتے ہیں، ان کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور وہ بلیک ہول کے گرد اسپائرل ( لہردار )راستے پر چکر لگاتے ہوئے، واقعاتی افق سے قریب تر ہونے لگتے ہیں۔ ہر چکر میں ان کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ عین واقعاتی افق پر پہنچ جاتے ہیں۔

زبردست رفتار کے سبب یہ اجسام انتہائی زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں اور ان سے روشنی یا ریڈی ایشن خارج ہونے لگتی ہے۔ واقعاتی افق جو کہ بلیک ہول کی سرحد ہے وہاں سے بلیک ہول میں گرتے وقت یہ آخر ی بار انتہائی تیز ترین شعاعیں خارج کرتے ہیں جس سے واقعاتی افق روشن ہوجاتا ہے۔

سو ہم جو یہ تصویر دیکھ رہی ہیں یہ درحقیقت ایونٹ ہورائزن پر فلکی اجسام سے پیدا ہونے والی روشنی کی ہے اور اس روشنی کے درمیان جو اندھیرا ہے ، وہ بلیک ہول ہے ، سو اس طرح سائنس دانوں کا یہ دعویٰ درست ہے کہ یہ تصویر بلیک ہول کی ہے ، فی الحال موجودہ ٹیکنالوجی سے بلیک ہول کو اتنا ہی دیکھ پانا ممکن ہوسکا ہے۔

ہوسکتا ہے مستقبل میں کبھی سائنس اس قدر ترقی کرلے کہ بلیک ہول کے اندر بھی جھانک سکے اور ہمیں بتاسکے کہ وہاں یہ زبردست سرگرمی کس سبب ہورہی ہے ، فی الحال آپ اس تصویر سےگزارا کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں