The news is by your side.

شہباز حکومت : پہلی سہ ماہی میں ملکی معیشت کا برا حال

اسلام آباد : مسلم لیگ ن اور اتحادی حکومت کے گزشتہ سال جولائی سے ستمبر بجٹ خسارے میں54فیصد خطرناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی مالی سال پہلی سہ ماہی جولائی سے ستمبر کی مالیاتی رپورٹ جاری کردی گئی، جس کے مطابق تین ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 808ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

بجٹ خسارہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال جولائی سے ستمبر کے دوران بجٹ خسارہ 438ارب روپے تھا، جولائی سے ستمبر2022کے دوران حکومتی آمدنی2ہزار16ارب روپے رہی۔

وزارت خزانہ کے مطابق ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی کے دوران1ہزار782ارب محصولات جمع کیے اور پہلی سہ ماہی کے دوران نان ٹیکس آمدن234ارب روپے رہی۔

مجموعی اخراجات

جولائی سے ستمبر پہلی سہ ماہی تک مجموعی اخراجات2ہزار825ارب رہے جبکہ اس دوران953ارب روپے سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئے، رواں مالی سالی جولائی سے ستمبر تک دفاعی بجٹ312ارب رہا۔

کتنا قرضہ لیا؟ 

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ڈی پی کا مجموعی حجم 78ہزار197ارب ریکارڈ کیا گیا، رواں مالی سال پہلی سہہ ماہی کے دوران 808 ارب روپے کا قرض لیا۔

رواں مالی سال جولائی سے ستمبر47 ارب پٹرولیم لیوی کی مد اکٹھے ہوئے ہیں جبکہ جولائی سے ستمبر 642ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہوئے۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی

پہلی سہ ماہی کے دوران فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں79ارب اکٹھے ہوئے ہیں، رواں مالی سال پہلی سہہ ماہی کے دوران880 ارب صوبوں کو تقسیم کیے۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کو437ارب، سندھ کو214ارب این ایف سی کی مد میں تقسیم کیے گئے کے پی کو145ارب، بلوچستان کو82 ارب این ایف سی کے تحت جاری کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں