The news is by your side.

Advertisement

امریکا کا پہلا سکھ پولیس اہلکار نامعلوم شخص کی فائرنگ سے ہلاک

واشنگٹن:امریکی ریاست ٹیکساس میں بھارتی نژاد امریکی ڈپٹی شیرف سندیپ دہلیوال کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ رابرٹ سولس کو سندیپ کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق 42 سالہ ڈپٹی سندیپ دہلیوال ٹیکساس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے پہلے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے اہلکار تھےوہ گزشتہ 10 سال سے اسی ڈیپارٹمنٹ میں اپنی ڈیوٹی پر مامور تھے۔پ

ولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈ گونزلز نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈیوٹی کے دوران جب وہ اپنی پیٹرول کار پر معمول کے گشت پر تھے تو ان پر ایک شخص نے پیچھے سے آکر وار کیا۔

ان کا کہنا تھاکہ گھات لگائے ہوئے شخص کے پیچھے سے وار کیے جانے پر وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے،امریکا میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سندیپ دہلیوال نے ہیرس کاونٹی میں شمولیت اختیار کرکے اپنی برادری کے دیگر لوگوں کے لیے بھی راہیں ہموار کی تھیں ۔

گونزلز کا کہنا تھا کہ وہ پگڑی پہن کر احترم اور فخر کے ساتھ اپنی برادری کی نمائندگی کرتے تھے اور ڈیپارٹمنٹ میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ 47 سالہ رابرٹ سولس کو سندیپ کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

گونزیلز نے بتایا کہ رابرٹ کے پاس سے ایک ہتھیار بھی ملا ہے جس پر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ وہی ہتھیار ہے جسے سندیپ کے قتل کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

گونزلز کا کہنا تھا کہ سندیپ کا قتل جس دن ہوا اس دن کو پولیس افسران کے لیےبدترین سمجھا گیا،سندیپ کے قتل پر بھارت نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں