The news is by your side.

Advertisement

مریخ پر پہلا گھر فروخت ہو گیا، قیمت کتنی؟

انسانوں نے ابھی مریخ پر قدم نہیں رکھا ہے تاہم سرخ سیارے پر واقع مستقبل کی ایک رہائش گاہ فروخت ہو گئی ہے۔

مارس ہاؤس نامی یہ گھر دنیا کا پہلا ڈیجیٹل این ایف ٹی (وہ ٹوکن جس کا تبادلہ نہ ہو) گھر ہے جو زمین کے رہائشی کو فروخت کیا گیا ہے، اور یہ 5 لاکھ ڈالر سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوا۔

اس گھر کا ورچوئل نقشہ ایک تھری ڈی فائل کی صورت میں خریدار کو کمپیوٹر پر بھیجا گیا، جسے کرسٹن کِم نامی خاتون نے تیار کیا تھا، اُن کا کہنا تھا کہ یہ نقشہ انھوں نے کرونا وبا کے دوران مئی 2020 میں اپنے ڈیجیٹل بدھ مت فلسفے کے تصور کے تحت ڈیزائن کیا ہے، یعنی ایک ایسا ماحول جہاں انسان صحت مند رہے۔

مریخ پر ڈھائی لاکھ انسانوں کا شہر، تعمیراتی کام کب شروع ہوگا؟

اس مریخ گھر کی ڈیزائننگ میں گرین ہاؤس پینلنگ میں مستعمل خصوصی گلاس فیبرک کا استعمال کیا گیا ہے، جس میں کھانا کھانے، بیٹھنے اور سونے کی جگہوں کے ساتھ ساتھ سوئمنگ پول بھی بنایا گیا ہے۔

یہ گھر سرخ سیارے پر کسی پہاڑی چوٹی پر تعمیر شدہ لگتا ہے، جو مریخ کے قدرتی نظارے سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

این ایف ٹی (نان فنجیبل ٹوکن) کرپٹوکرنسی یعنی بٹ کوائن کی طرح کی چیز ہے، جس کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثے ریکارڈ کیے جاتے ہیں، تاہم روایتی کرپٹو کرنسی کے برعکس NFTs کو کسی اور کے بدلے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، نیز ڈیجیٹل اثاثوں کی بھی ایک قدر ہوتی ہے، جو غیر متحرک اور متحرک تصاویر، ویڈیوز، موسیقی اور اسی طرح دیگر چیزوں کو پیش کر سکتی ہے، کچھ لوگ اسے نایاب چیزیں جمع کرنے کے لیے خریدتے ہیں اور کچھ کرپٹو کرنسی کی طرح سرمایہ کاری کے لیے۔

خریدار کو ایک تھری ڈی فائل دی جاتی ہے، جسے وہ اپنے میٹاورس یعنی ایک اجتماعی ورچوئل شیئر اسپیس میں اپ لوڈ کرتا ہے۔ یوزرز ورچوئل اراضی خرید کر ڈیجیٹل کاروبار اور ڈیجیٹل گھر تعمیر کر سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں