The news is by your side.

Advertisement

عالمی ریٹنگز ایجنسی فیچ نے پاکستان کی ریٹنگز بی مائنس کر دی

نیویارک : عالمی ریٹنگز ایجنسی فیچ نے زر مبادلہ ذخائر میں کمی،خراب مالی صورتحال اور بھاری قرض ادائیگی کی وجہ سے پاکستان کی ریٹنگز میں کمی کرکے بی مائنس کردی۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ریٹینگز ایجنسی فیچ کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں کمی کردی گئی، ریٹنگز ایجنسی کاکہناہےکہ درجہ بندی کو زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، خراب مالی صورتحال اور انتہائی بھاری واجب الادا رقم کی وجہ سے ’بی نیگیٹو‘ کردیاگیا ہے۔

فیچ کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے تناسب میں قرضو ں میں اضافے کی وجہ سے بیرونی مالیاتی خدشات لاحق ہیں، پاکستان کی ریٹنگز گزشتہ کافی عرصےسے مستحکم تھی۔

ریٹنگز ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام بیرونی مالیاتی صورتحال کو بہتر بنا سکتا تاہم اس پروگرام کے اپنے منفی اثرات بھی ہیں۔

فیچ کا مزید کہنا تھا کہ زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی ہورہی ہے، آئندہ تین برس میں فی سال نوارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کرنا ہوگی، آئندہ سال اپریل تک ایک ارب ڈالر کے یورو بونڈ کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔

ریٹنگز ایجنسی نے پیش گوئی کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر سات فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں :  رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4.3سے 4.7تک رہےگی، موڈیز 

یاد رہے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے  پاکستانی معیشت سے متعلق  پرپورٹ جاری کی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی معیشت کوبیرونی خدشات لاحق ہیں ، حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ا صلاحات وقت کی ضرورت ہیں، معاشی اصلاحات مشکل اقدام ہیں تاہم یہ ہی معشیت میں بہتری کا باعث بنیں گی، 2020 تک قرضوں کاحجم بڑھ کر 76فیصد ہونےکا خدشہ ہے۔

موڈیز کے مطابق رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4.3سے 4.7تک رہےگی اور آئندہ مالی سال میں معاشی شرح نمومیں اضافہ متوقع ہے جبکہ ، 2020میں معاشی شرح نمو 5.8 فیصد رہنے کاامکان ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں