The news is by your side.

Advertisement

بورس جانسن فلیٹ پر بھاری رقم خرچ کر کے مشکل میں پڑ گئے

لندن: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے فلیٹ کی تزئین و آرائش پر آنے والے اخراجات کی تحقیقات کا آغاز ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں واقع برطانوی وزیر اعظم کے فلیٹ کی تزئین و آرائش پر 2 لاکھ پاؤنڈز خرچ کر دیے گئے، جس پر سرکاری سطح پر تحقیقات شروع ہو گئی ہے۔

سیاسی اور انتخابی معاملات کے اخراجات کو دیکھنے والے برطانوی کمیشن نے شواہد کے تناظر میں رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

برطانیہ میں اعلیٰ سرکاری سطح پر اب اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مذکورہ فلیٹ کی مرمت کی مالی اعانت کیسے کی گئی۔

واضح رہے کہ بورس جانسن اور ان کی منگیتر کیری سیمنڈز نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اپنی نجی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر 2 لاکھ پاؤنڈز خرچ کیے ہیں، جب کہ سرکاری طور پر برطانوی وزیر اعظم کو اپنے گھر کی تزئین و آرائش اور دیگر اخراجات کے لیے سالانہ صرف 30 ہزار پاؤنڈز گرانٹ ملتی ہے۔

بورس جانسن کے سابق چیف ایڈوائزر ڈومینک کمنگز کا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم نے ڈونرز کو ’خفیہ طور پر ادائیگی‘ کرنے کا کہا تھا، انھوں نے الزام لگایا کہ ٹوری کے ڈونرز سے فلیٹ پر ہونے والے کام کی ادائیگی کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی، یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ بورس جانسن نے 58,000 پاؤنڈز کا عطیہ وصول کیا۔

سابق اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے کہا ہے کہ بورس جانسن کو اب یہ واضح کردینا چاہیے کہ ان کے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے فلیٹ کی تزئین وآرائش کے لیے کس نے ادائیگی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں