The news is by your side.

سیلاب کے 7 ماہ بعد بھی سندھ میں ہزاروں متاثرین تاحال بے گھر

کراچی / کوئٹہ: ملک بھر میں قیامت خیز سیلاب گزرنے کے 7 ماہ بعد بھی سیلاب متاثرین کی مشکلات کم نہ ہو سکیں، صوبہ سندھ میں تاحال 87 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بے گھر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیلاب کے 7 ماہ بعد بھی سب سے زیادہ متاثر صوبوں بلوچستان اور سندھ سے سیلابی پانی کی مکمل نکاسی نہ ہو سکی۔

بلوچستان کے سیلاب زدہ اضلاع سے پانی کی نکاسی کا عمل تاحال جاری ہے، ضلع جعفر آباد کی یوسیز جانان اور گندکہ، ضلع صحبت پور کی یونین کونسلز خدائے داد اور ڈوڈئیکا، نصیر آباد کی یو سی منجھی شیری اور ضلع جھل مگسی کی یو سی بریجہ میں تاحال سیلابی پانی موجود ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھر میں فلڈ کیمپس بند کیے جا چکے ہیں اور سیلاب متاثرین گھروں کو جا چکے ہیں، صرف ضلع صحبت پور میں 8 ہزار سیلاب متاثرین تاحال بے گھر ہیں۔

دوسری جانب ذرائع وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 ماہ گزرنے کے باوجود سندھ میں 87 ہزار 537 سیلاب زدگان تاحال بے گھر ہیں۔

سندھ کے 6 ٹینٹ سٹیز میں 7 ہزار 136 متاثرین اب بھی موجود ہیں۔ سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ملیریا اور سانس کی بیماریوں کے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں فلڈ آئی ڈی پی کیمپس بند ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں