The news is by your side.

Advertisement

دریاے سندھ کو صاف رکھنے کا عزم، پھولوں سے خراجِ تحسین

ڈی آئی خان: ڈیرہ اسمعیل خان کے شہریوں نے دریائے سندھ کو صاف کرنے کے عزم روایتی ثقافتی طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے دریا کو پھولوں سے خراج تحسین پیش کیا۔

تفصیلات کے مطابق موسم بہار کی آمد کے موقع پر جب ہر طرف رنگوں اور خوشیوں کی بہار نظر آتی ہے ۔ وہیں ڈی آئی خان میں دریائے سندھ کو آلودگی سے پاک کرنے کیلئے پھولوں کا خراج پیش کیا جاتا ہے ۔انتظامیہ نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہر کے نکاسی آب اور گندے پانی کے تمام نالے دریائے سندھ میں ڈال دئیے گئے ہیں جس نہ صرف آبی حیات کا نقصان کا اندیشہ ہے بلکہ شہریوں کو پینے کا صاف پانی بھی اب میسر نہیں رہا۔

انتظامیہ کی اسی بے حسی کے خلاف یہ منفرد اور دلچسپ احتجاج ہر سال موسم بہار کی آمد کے ساتھ منعقد کیا جاتا ہے، جس میں ڈیرہ اسماعیل خان کے باسی دریائے سندھ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے دریا میں پھول کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔

ہر سال کی طرح اب کی بار بھی ثقافتی وادبی تنظیم سپت سندھو سلہاڑ کے زیر اہتمام چیت بہار میلہ جسے عرف عام میں پھولوں والا میلہ بھی کہا جاتا ہے کا انعقاد کیاگیا۔جس میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان’ضلع ٹانک اور ضلع بھکر کے علاوہ سرائیکی وسیب کے دیگر شہروں سے بھی عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

میلے کے شرکاء ریلی کی صورت میں امامیہ گیٹ پر اکھٹے ہوئے اور ڈھول کی تھاپ پر سرائیکی جھمر کا رقص پیش کرتے ہوئے اپنے روایتی راستے محکمہ موسمیات روڈ سے ہوتے ہوئے دریا ئے سند ھ کے کنارے پر پہنچے تو وہاں پر پہلے سے موجود شہریوں نے ریلی کا استقبال کیا۔جس کے بعدعاطف شہید پارک کے قریب دریا میں پھول بہا کر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دریا کے پانی کو کسی صورت گدلا نہیں ہونے دیں گے۔پانی میں ہی انسانوں کی بقاء اس لئے ہم دریا کی بقاء کی جنگ اپنی آخری سانس تک جاری رکھیں گے۔

تقریب میں شرکت کرنیوالے ملک علی آصف سیال نے بتایا کہ شہر کے نکاسی آب اور گندے پانی کے تمام نالے دریائے سندھ میں ڈال دئیے گئے ہیں جس نہ صرف آبی حیات کا نقصان کا اندیشہ ہے بلکہ شہریوں کو پینے کا صاف پانی بھی اب میسر نہیں رہا ہے ۔گل پاشی کی تقریب کے بعد تمام شرکاء عاطف قیوم شہید پارک میں اکھٹے ہوئے جس سے پنڈال مرد وخواتین سے کچھا کھچ بھر گیا۔

دریائے سندھ میں گل پوشی کے بعد عاطف قیوم شہید پارک میں سپت سندھو سلہاڑ کی پررونق تقریب سعید اختر سیال کی صدارت میں منعقد ہوئی۔جس میں سعید اختر سیال اور قیصر انور’ملک علی آصف سیال’سید حفیظ گیلانی’سلیم شہزادنے خطاب کیا اور دریا میں پھولوں بہانے کے اغراض ومقاصد اور پانی کی آلودگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر نعمان لطیف سدوزئی اور محمد عرفان مغل نے بطور مہمان خصوصی شرکاء سے خطاب کیا جبکہ اعجاز قریشی اور آفتاب احمد اعوان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئیے۔اس موقع پر شرکاء کا کہنا تھا کہ اس وقت ساری دنیا آبی وسائل کی بقاء جنگ لڑ رہی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے دریائے سندھ کے پانی کو محفوظ اور شفاف رکھنے کے لئے کوئی اقدامات نہ کئے گئے جس کی وجہ سے آج جہاں پانی ہر طرف پانی کی قلت کاسامنا ہے وہاں پانی کو آلودہ کیا جارہا ہے اور آبی حیات کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بقاء بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔

لاکھوں کی کثیر آبادی والے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا سارا فضلہ دریا میں براہ راست گر رہا ہے جس کی وجہ سے پانی پینے کے قابل نہیں رہا تو دوسری طرف فلٹریشن پلانٹ نصب نہ ہونے کی وجہ سے عوام آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے آرسینک کی مقدار بڑھ گئی ہے۔موذی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور وبائیں پھوٹنے کاخدشہ بھی درپیش ہے۔شرکاء نے کہا کہ شومئی قسمت کہ زمانوں پہلے ہمارے اجداد دریاکے کنارے پر آباد ہوئے اور ہمیشہ اس دریا سے محبت وعقیدت کااظہار کیا لیکن آج دریا کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ مقامی ڈیرے وال ہر سال 23 مارچ کو دریا پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے خاموش اورپرامن احتجاج کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ شہر بھر کی گندگی کو پانی میں نہ انڈیلا نہ جائے ا ور جامعہ منصوبے وحکمت عملی سے شہر سے باہر نکاسی کے گندے پانی کو نکالا جائے تاکہ شہری تعفن زدہ پانی پینے سے محفوظ رہیں۔تاہم ہنگامی بنیادوں پر حکومت فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کو یقینی بنائے اور شہر میں پلاسٹک کے شاپر پر پابندی عائد کی جائے تاکہ دریا میں جمع ہونے والی گندگی کی روک تھام میں مدد مل سکے اور دریائی پانی آلودہ ہونے سے بچ سکے۔

سپت سندھو سلہاڑ کے زیر انتظام اس میلے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی جبکہ شعراء نے ڈیرہ اسماعیل خان کی ثقافت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے سرائیکی میں اپنا کلام پیش کرکے حاضرین کے دل موہ لئے۔اس کے علاوہ دھرتی ڈیرہ اسماعیل خان کے سپوت اور سرائیکی وسیب کے شہرازے لوک فنکار امجد نواز کارلو نے بھی اپنے فن کا جادو جگایا جس پر حاضرین جھومنے پر مجبور ہوگئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں