The news is by your side.

Advertisement

جج ہوتا تو بابری مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیتا، سابق بھارتی چیف جسٹس

نئی دہلی : سابق بھارتی چیف جسٹس اے کے گنگولی نے کہا ہے کہجج ہوتا تو بابری مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیتا، بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنے کے جرم کوجائز قراردیا، جس پر افسوس ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے سابق سپریم کورٹ جج اے کے گنگولی نے بابری مسجد کیس کے فیصلے پرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کیس کی سماعت کرتا تو مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیتا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہے، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مسجد کی جگہ ہندو عمارت تھی۔

اے کے گنگولی کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنے کے جرم کوجائز قراردیا، عدالتی فیصلے پرافسوس ہے۔

یاد رہے بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایودھیا کیس کے فیصلے کا تاریخ کےکم ترفیصلوں میں شمارہوگا، بھارتی سپریم کورٹ نے بتایا کہ مائٹ ازرائٹ۔

سابق بھارتی جج کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے جارحیت کی حمایت کی، بھارتی سپریم کورٹ نے خطرناک رجحان کی بنیاد رکھ دی ہے، 500 سال پہلے مندر گرا کر مسجد تعمیر کرنے کی بات احمقانہ ہے، ایسی باتیں کچھ لوگوں کے سیاسی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لئے ہیں۔

مزید پڑھیں : بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔

فیصلے میں سنی اور شیعہ وقف بورڈز کی درخواستیں مسترد کردی گئیں تھیں اور کہا گیا تھا کہ تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیارام کی جنم بھومی ہے، بابری مسجد کا فیصلہ قانونی شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

بعد ازاں پاکستان نے تاریخی بابری مسجد کے فیصلے پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بار پھرانصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں