The news is by your side.

Advertisement

‘عالمی سازش’ کیخلاف تحقیقاتی کمیشن قائم

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے جمعے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عالمی سازش کیخلاف لیفٹیننٹ جنرل(ر) طارق خان کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیدیا گیا ہے جو دھمکی آمیز لیٹر کی تحقیقات کریگا۔

فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ یہ کمیشن تحقیقات کرے گا کہ لیٹر میں میں رجیم چینج کی دھمکی موجود ہے یا نہیں، سازش کہاں سے بنی، مقامی ہینڈلر کون ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نےعالمی سازش کوسامنےرکھ کر کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ مخصوص لوگ ہیں جنہیں معلوم تھا کہ یہ سازش کہاں بنی، غیرملکی ایمبیسی سے8 سے زائد منحرف اراکین کو اپروچ کیا گیا، منحرفین نےان سےملاقاتیں کیں اور کمٹمنٹس کیں، ان ملاقاتوں کے ریکارڈ خفیہ اداروں کے پاس موجود ہیں، کمیشن تفصیلات کا جائزہ لے گا اور اپنی تحقیقاتی ٹیمیں بنا سکےگا۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے وزیراعظم عمران خان پراعتماد کااظہار کیا اور اعتماد کا اظہار کرکے قرارداد بھی منظور کی۔ ہم کہیں نہیں جارہے،عمران خان وزیراعظم ہیں اور رہیں گے، پنجاب میں بھی منحرفین کو نوٹسز بھیج دیے ہیں ہم قانون کے مطابق آگےبڑھیں گے۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ لیٹر کا مواد کل تمام ممبران اسمبلی کےسامنے رکھا جائیگا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کل کے فیصلے سے پارلیمنٹ کی بالادستی خطرے میں پڑ گئی، حیرت انگزیز فیصلہ ہے کہ اسپیکر کو کہا کہ محرف اراکین ووٹ ڈال سکیں گے،سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کا اپنا اپنا کام ہے، حاکمیت پارلیمان کی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کی طرف شفٹ ہوگئی ہےاور پارلیمان کی حاکمیت چند ججز کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے، اس فیصلے سے تقسیم اقتدار کی تھیوری سخت متاثر ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آپ کے پاس دستاویز نہیں پھر کیسے پتہ لگا کہ اسپیکر نے ذہن کا غلط استعمال کیا، سپریم کورٹ کے پاس مواد ہی نہیں تھا کہ رولنگ صحیح ہے یا غلط، سپریم کورٹ کیسے کہہ سکتی ہے کہ اسپیکر نےاپنے فیصلے کا استعمال صحیح کیا یا غلط، آپ اس نتیجے پر پہنچنا چاہتے تھے تو آپ کو مواد دیکھنا چاہیےتھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی، یہ ایک ایسامعاملہ ہے جس پر سپریم کورٹ کو نظرثانی کرنی چاہیے، ہماری قانونی ٹیم نظرثانی اپیل کے حوالےسے بھی دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر بھی شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے اور کہاہے کہ الیکشن کمیشن کےکل کےبیان کوحقائق کےمنافی سمجھا جائے، الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے اوورسیز تو دور ہم یہاں بھی الیکشن نہیں کراسکتے، ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کابیان غیرذمہ دارانہ ہے، الیکشن کمیشن بیان پرنظرثانی کرے،90دن میں انتخابات ہرحال میں ہونےچاہئیں، وفاقی حکومت پوری طرح الیکشن کرانے کو معاونت کیلئے تیار ہے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اگر آج عوام نےاپنی آزادی کی حفاظت نہ کی تو بڑی غلامی میں چلے جائیں گے، ایسی حکومت مسلط ہوگی جس کی ڈور کہیں اور سے ہل رہی ہوگی، جس لیڈر کی سوچ ہو کہ ہم بھکاری ہیں، اسے ملک پر مسلط کرنے کی کوشش ہو تو کیا مزاحمت نہیں کرینگے؟

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم ہیں اور رہیں گے، ہم ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، اجلاس سے متعلق اسپیکرصاحب نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے ہم اور اپوزیشن ایک ساتھ استعفے دیں گے، مستحکم حکومت نہیں ہوگی تومعاشی،سیاسی ،خارجی فیصلےنہیں ہوسکیں گے، ہمیں فوری ایک مستحکم حکومت کی طرف جانا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں