The news is by your side.

Advertisement

استعفے کا معاملہ، یونس خان کے تہلکہ خیز انکشافات

کراچی: قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے بیٹنگ کوچ کے عہدے سے استعفے کے معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے تہلکہ خیز انکشافات کردیے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں سابق کپتان یونس خان نے بتایا کہ حسن علی کے ساتھ واقعے پر استعفیٰ دینا ہوتا تو 4، 5 ماہ پہلے ہی دے دیتا، میرے استعفے سے حسن علی کے واقعے کی تال میل نہیں ملتی، ان کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی لیکن معاملہ حل ہوگیا تھا۔

یونس خان نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ حسن علی پشیمان ہیں تو میں خود ان کے پاس گیا۔

سابق کپتان نے استعفے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کیمپ تھا پی سی بی نے بائیو سیکیور ببل سے متعلق نہیں بتایا تھا، سب کو بتایا میری سرجری ہے پھر بھی میں کیمپ میں شامل ہوا، تین جون کو پی سی بی کی کال آئی کہ آپ کی فلائٹ بک کرلی گئی ہے۔

یونس خان نے بتایا کہ 22 جون کو ڈاکٹر کی کال آئی کہ آپ نے بائیو سیکیور ببل جوائن نہیں کیا، میں نے انہیں کہا میری سرجری ہے میں بائیو سیکیور ببل میں نہیں آسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ میرے پاس ایک اور کال آئی میں ان کا نام ابھی نہیں بتا سکتا، میں نے انہیں بتایا کہ میری سرجری ہے میں جوائن نہیں کرسکتا، مجھے گہا گیا اگر آپ نہیں آئیں گے تو محمد حفیظ جیسی صورت حال ہوسکتی ہے، کال کرنے والے نے کہا جیسے حفیظ کے ساتھ کیا ویسے آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

یونس خان نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ میں حفیظ نہیں یونس خان ہوں اور میری مجبوری ہے، میری ہی عزت نہیں کی جائے گی تو کھلاڑی کی کیا عزت ہوگی۔

سابق کپتان نے کہا کہ ایم ڈی پی سی بی کو این ایچ پی سی کے کوچز سے متعلق شکایت کی، وسیم خان کو کہا کہ جب ہم موجود ہیں تو باہر کے لوگ کیسے ٹپس دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں قومی ٹیم کا بیٹنگ کوچ تھا اور مجھے لاعلم رکھا جاتا تھا، آئندہ پی سی بی گیا تو ایک ایک چیز کنٹریکٹ پر لکھواؤں گا۔

میزبان وسیم بادامی نے سوال کیا کہ کیا آپ کو پی سی بی سے کال کرنے والے ذاکر خان تھے؟ اس پر یونس خان نے کہا کہ میں نے استعفیٰ اس کال کی وجہ سے دیا لیکن نام نہیں بتاؤں گا۔

2009 کی بغاوت: ’شاہد آفریدی نے بات کی تو شاید وہی ماسٹر مائنڈ ہوں گے‘

یونس خان نے 2009 کی بغاوت سے متعلق بتایا کہ واقعے کا ماسٹر مائنڈ کوئی بھی ہوسکتا تھا مجھے معلوم نہیں ہے، لگتا یہی ہے کہ سارا معاملہ کپتانی کا ہی تھا۔

سابق کپتان نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کے سامنے جس نے بات کی وہی واقعے کا ماسٹر مائنڈ ہوگا، اگر شاہد آفریدی نے بات کی تو شاید وہی ماسٹر مائنڈ تھے۔

انہوں نے بتایا کہ چیئرمین پی سی بی سے ملاقات کے لیے آفریدی کراچی سے لاہور آئے، میرے خلاف حلف لینے کے لیے قرآن پاک بھی مجھ سے ہی لے کر گئے، ایک کھلاڑی کو میرے پاس بھیجا گیا کہ جاؤ قرآن پاک لے کر آؤ، کھلاڑی نے مجھے کہا میچ سے پہلے تھوڑی سے تلاوت کرنی ہے۔

وسیم بادامی نے سوال کیا کہ قرآن پاک لینے کے لیے آنے والے کھلاڑی عمر اکمل تھے؟ اس پر یونس خان نے کہا کہ پی سی بی میں بڑے بڑے نل لگے ہوئے ہیں خبریں لیک ہورہی ہوتی ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ کھلاڑی کی غلطی ہوگی اور آپ پوچھ بھی نہیں سکتے تو مسائل ہوں گے، کپتان کہے اسکور اچھا جارہا ہے اور اگلی بار پر کھلاڑی شارٹ مار کر آؤٹ ہوجائے تو پھر کیا کرنا چاہیے، کھلاڑی ہدایت نہیں مانگے تو اسپاٹ فکسنگ کے شکوک پیدا ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں یونس خان نے بتایا کہ آخری پانچ سال اپنے کمرے میں بند رہتا تھا اور اپنی کرکٹ کھیلتا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں