The news is by your side.

Advertisement

انگلینڈ میں انسانوں کے’قدیم اجداد ‘کی باقیات دریافت

ڈورسیٹ: جنوبی برطانیہ میں قدیم دور کے انسانی آباؤ اجداد اور دیگر میملز کی باقیات دریافت ہوئی ہیں‘ سائنسدانوں کے مطابق یہ باقیات 145 سال قدیم ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی شہر ڈورسیٹ کے ساحلی علاقے کی چٹانوں سے قدیم انسانی مخلوق کے دانت برآمد ہوئے ہیں۔ دریافت کنندہ سائنسدانوں کے مطابق مذکورہ دانت 145 ملین سال قدیم ان میملز کے ہیں جن کا شجرہ آج کے دور کے انسان سے آ جڑتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق مذکورہ کے چھوٹے میملز کیڑے مکوڑے جبکہ بڑے میملز پیڑپودے کھا کر زندہ رہتے ہوں گے۔

سائنسدانوں کا مزید کہ کہنا ہے کہ مذکورہ مخلوق کے دانت کافی مضبوط تھے جوکہ توڑنے، کاٹنے اور چبانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے، پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اسٹیو سویٹ مین کے مطابق مذکورہ دریافت شدہ ڈھانچوں کے خدوخال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ممالیے لمبی عمر تک جیتے ہوں گے ۔

زمین پرآج موجود انسانوں کی ماں کون؟*

ڈاکٹر اسٹیو سویٹ مین کا مزید کہنا ہے کہ حال میں دریافت ہونے والی باقیات ماضی میں جراسک ساحل سے دریافت ہونے والی باقیات سے یکسر مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ڈھانچے اور دانت پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ میملز چھوٹے مگر تیز تھے اور وہ رات میں گھومنا پسند کرتے تھے۔

ایک اور تحقیق کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ مخلوق ڈائناسور نسل کے دنیا سے خاتمے کے بعد وجود میں آئی تھی اور یہ مخلوق صرف رات کے اوقات میں نکلتی تھی۔

واضح رہے کہ مذکورہ دریافت گرانٹ اسمتھ نامی ایک طالبعلم نے کی ہے، جو کہ سوانیج نامی علاقے میں واقع ڈرلسٹن بے کے قریب چٹانوں کے نمونے جمع کررہا تھا، تاہم وہاں اسے ایک چٹان سے مذکورہ دانت ملا جو اس نے اس سے قبل کبھی کہیں نہیں دیکھا تھا۔

مذکورہ دریافت ایک ‘پب‘کے قریب سے ہوئی ہیں جو کہ چارلی نیومین نامی شخص کی ملکیت ہے، چارلی بذات خود بھی نوادرات جمع کرنے کے بے حد شوقین ہیں۔ اس سے قبل چین میں بھی 160 ملین سال پرانے ڈھانچے برآمد ہو چکے ہیں، تاہم یہ دریافت تاحال زیر بحث ہے کہ آیا یہ اتنے قدیم ہیں بھی کہ نہیں؟۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں