The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق

کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق جبکہ دو افرادزخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا شالکوٹ تھانے کی حدود میں ہوا، دھماکا خیزمواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیاتھا، دھماکے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد کئی موٹر سائیکلوں میں بھی آگ لگ گئی ہے، دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے حادثے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

دوسری جانب حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا تیسرا پاور شو کوئٹہ میں جاری ہے، کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں پارٹی پرچموں کی بہار میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز دیگر رہنماؤں کے ہمراہ جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

جلسہ گاہ میں سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، انس نورانی، آفتاب شیر پاؤ، امیر حیدر خان ہوتی سمیت دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کیا تھا الرٹ میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گرد حملوں کی تیاری کررہی ہے ، کوئٹہ اور پشاور میں سیاسی اور مذہبی قائدین پر حملہ کیاجاسکتا ہے، دہشت گرد منصوبے میں ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی شامل ہیں۔

 مزید پڑھیں:  پشاوراور کوئٹہ جلسے میں کوئی سانحہ رونما ہوسکتا ہے، شیخ رشید نے خبردار کردیا

نیکٹا کا کہنا  تھا  کہ اہم سیاسی شخصیت کو خودکش دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا جاسکتا ہے، قمردین کاریز سے برآمد مواد کوئٹہ اور کے پی میں دہشت گردی میں استعمال ہونا تھا۔

الرٹ کے متن میں کہا گیا ہے کہ سیاسی اور مذہبی اجتماعات کی سیکیورٹی بڑھائی جائے، چاروں صوبوں،گلگت بلتستان آزادکشمیرکےچیف سیکریٹریزکواقدامات سےآگاہ کردیاگیا جبکہ دشمن ملک کا میڈیا کھلم کھلااپنے پروپیگنڈے میں ایسے ہی واقعہ کا بار بار ذکر کررہا ہے۔

گذشتہ روز اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں بھارتی خفیہ ایجنسی کا پلان بے نقاب کردیا گیا تھا، بھارتی میڈیا نے پی ڈی ایم کے پچیس اکتوبر کے جلسے کے حوالے سے پہلے سے ہی پروپیگنڈا شروع کردیا ہے کہ جلسے میں کسی بڑے رہنما کو ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں