The news is by your side.

Advertisement

کراچی: 4منزلہ رہائشی عمارت گرگئی، ملبے سے 7افراد کی لاشیں نکال لی گئی

کراچی: شہر قائد میں 4منزلہ رہائشی عمارت گرگئی، جس کے بعد ملبے سے 7افراد کی لاشیں نکال لی گئی جبکہ ملبے تلے کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں کورنگی کراسنگ اللہ والا ٹاون کے قریب رہائشی عمارت گرگئی، جس کے باعث ملبے تلے کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، عمارت چار سے 5منزلہ تھی۔

واقعے کے بعد امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہے، ریسکیوذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کے ملبے سے 7افراد کی لاشیں نکال لی گئی جبکہ خواتین اوربچوں سمیت 8 افراد زندہ نکالا گیا ہے۔

پاک فوج کے اہلکار امدادی کارروائیوں کیلئے پہنچ گئے


امدادی ٹیموں اورپولیس کی مدد سے زخمیوں کوملبے سےنکالنے کی کوشش جاری ہے، ملبے سے نکالے گئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ پاک فوج کے اہلکار امدادی کارروائیوں کیلئےجائے حادثہ پر پہنچ گئے۔

دو ہیوی مشینری کے ذریعے عمارت کے ملبے کو ہٹایا جارہاہے اور ملبے کے بڑے بلاکس ہیوی مشینری سے اٹھائے جارہے ہیں۔

عمارت گرنےسےساتھ کی عمارت کوبھی نقصان پہنچا اور جائے حادثہ پردائیں اور بائیں جانب کی عمارتیں بھی مخدوش ہوگئیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عمارت میں15سے20خاندان رہائش پذیرتھے جبکہ ملبے میں 20سے 25افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

عمارت چائناکٹنگ پر بنی ہوئی تھی، عینی شاہد


عینی شاہد کا کہنا ہے کہ عمارت چائناکٹنگ پر بنی ہوئی تھی ، نوٹس بھی جاری ہوا تھا ، عمارت کے ملبے سے آوازیں آرہی ہیں، عمارت میں رہنے والے زیادہ تر غریب اور سارے کرایےدار تھے، عمارت کے اندر 30سے35لوگ موجود ہیں۔

اےآروائی نیوز نے زمین بوس ہونیوالی عمارت کی زمین کانقشہ حاصل کرلیا، عمارت غیرقانونی ہونے کےباوجود ایس بی سی اے نے کوئی ایکشن نہ لیا۔

پلےگراؤنڈکی زمین پر قبضہ کرکےغیر قانونی عمارت بنائی گئی تھی، چیئرمین ایس بی سی اے


چیئرمین ایس بی سی اے نے کہا ہے کہ پلےگراؤنڈکی زمین پر قبضہ کرکےغیر قانونی عمارت بنائی گئی تھی ، عمارت گرنے کی جگہ پر جارہے ہیں۔

ایس بی سی اے حکام کا کہنا ہے کہ رفاعی پلاٹ 22596اسکوائر یارڈ پر مشتمل تھا، یہ رفاعی پلاٹ پلے گراؤنڈ تھا، رفاعی پلاٹ کے نقشےکےمطابق ایک حصےپرغیرقانونی تعمیرات تھیں، پلے گراؤنڈ کے حصےپراور بھی غیر قانونی تعمیرات ہیں۔

کئی ماہ پہلےعمارت کو مخدوش قرار دیا گیا،ذرائع


ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ماہ پہلےعمارت کو مخدوش قرار دیا گیا، مخدوش قرار دینے کے بعد 6فلیٹوں کے رہائشی جا چکے تھے جبکہ 2فلیٹوں کےمکین فلیٹ خالی نہیں کررہے تھے۔

ذرائع کے مطابق بلڈر نے عمارت غیر قانونی بنائی تھی، ایس بی سی اے اور ملی بھگت سےغیر قانونی عمارت بناکر فلیٹ بیچےگئے، عمارت بنانے میں میٹریل بھی ناقص معیارکااستعمال کیاگیا۔

یاد رہے رواں سال جون میں کراچی کے علاقے لیاری میں پانچ منزلہ عمارت گرنے کے نتیجے میں بائیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس میں 40 فلیٹ تھے جب کہ عمارت پر پینٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں