The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا تھا، فرانسیسی صدر کا دعویٰ

ریاض : فرانسیسی صدر ایمنیئول مکرون نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ برس لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا تھا جیسے فرانس کی سفارتکاری کے ذریعے آزاد کروایا تھا۔

تفصیلات کے مطابق لبنانی وزیر اعظم سعد حریری یورپی یونین کے رکن ملک فرانس کے صدر کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں، جہاں وہ چند روز قیام کریں گے۔

سعد حریری کے دورے سعودی عرب سے متعلق بات منگل کے روز لبنانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کی گئی ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سعد حریری گذشتہ سال سعودی عرب میں استعفیٰ دینے کے بعد دوسرا دورہ کررہے ہیں۔

لبنانی وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب فرانسیسی صدر کے حالیہ دنوں سعد حریری سے متعلق دیئے گئے بیان کی نفی کرتا ہے جس میں ایمنیئول مکرون نے کہا تھا کہ گذشتہ برس سعد حریری کو سعودی عرب میں قید کرلیا گیا تھا جنہیں بعد میں فرانس کی سفارتکاری کے ذریعے آزاد کروایا گیا تھا۔

فرانسیسی صدر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’بی ایف ایم‘ کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب نے لبنانی وزیر اعظم کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ سعودی وزارت خارجہ نے منگل کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمینئول مکرون کا دعویٰ بلکل بھی درست نہیں ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے حکمران لبنان سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں اور سعودی حکام تمام وسائل کا استعمال کرتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کی حمایت و مدد جاری رکھے گیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لبنان میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد سعد حریری کو ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت بنانے کی ذمہ داری ملی ہے۔

یاد رہے کہ 6 مئی کو لبنان کے پارلیمانی الیکشن میں لبنانی وزیر اعظم کی پارٹی پارلیمنٹ میں اپنی ایک تہائی نشتیں گواں چکی ہے، جبکہ لبنان اور مشرق وسطیٰ میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں نے واضح برتری حاصل کی ہے۔

خیال رہے کہ موجودہ لبنانی وزیر اعظم سعد حریری نے سنہ 2016 میں پہلی بار لبنان کی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا، انہوں نے پہلی مرتبہ سنہ 2009 سے 2011 تک حکومت کا حصّہ رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں