The news is by your side.

Advertisement

فرانز کافکا کا تذکرہ جس کی ایک وصیت پر عمل نہیں کیا گیا

فرانز کافکا جرمنی کا ایک مشہور ناول نگار اور کہانی کار تھا۔ اس کا تماثیل بہت مقبول ہوئیں اور پسِ مرگ اس کی شہرت کا سبب بنیں۔ اسے بیسویں صدی کے بہترین ناول نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تین جون 1924ء کو کافکا نے ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔

وہ 1883ء میں چیکوسلاواکیہ کے ایک قصبے پراگ میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک یہودی گھرانے سے تھا، ابتدائی تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے کافکا نے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے والدین اسے زیادہ نہیں‌ چاہتے اور اپنی کئی محرومیوں اور مسائل کی وجہ سے کافکا خود کو حرماں نصیب اور بدقسمت خیال کرتا تھا۔ اس ادیب نے کبھی شادی نہیں‌ کی اور مشہور ہے کہ اس نے اپنی کچھ تخلیقات کو نذرِ آتش کردیا تھا اور کئی مسوّدے اپنے ایک دوست کے سپرد کرتے ہوئے وصیت کی تھی کہ اس کی موت کے بعد انھیں آگ میں جھونک دے، لیکن اس دوست نے کافکا کی وصیّت پر عمل نہ کیا۔ کافکا نہیں‌ چاہتا تھا کہ اس کی تخلیقات پڑھی جائیں لیکن ایسا نہ ہوسکا اور جب یہ تخلیقات دنیا کے سامنے آئیں تو انھیں بہت سراہا گیا اور کافکا کی تخلیقی اور ادبی صلاحیتوں کا سبھی نے اعتراف کیا۔

زندگی کی فقط 40 بہاریں دیکھنے والے کافکا نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک انشورنس کمپنی میں کام کیا اور قانون کی پریکٹس بھی کی۔ ایک موقع پر اس نے خودکشی کی کوشش بھی کی، مگر اس کے دوست نے کسی طرح اسے سنبھال لیا۔ وہ تپِ دق کی بیماری میں‌ مبتلا تھا۔

فرانز کافکا کے ناول ’دی ٹرائل‘ اور ’دی کاسل‘ کو علمی و ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی اور کئی زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں