The news is by your side.

Advertisement

آلو کے چپس زیادہ کھانے کا مشورہ!

آلو وہ سدا بہار سبزی ہے جو ہماری روز مرہ خوراک کا اہم حصہ ہے اور لوگوں کی اکثریت اس کے فوائد اور نقصانات سے ناواقف ہے اور صرف ذائقے یا روایتی طور پر اسے استعمال کرتے ہیں۔

عالمی وبا کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، اس سلسلے میں متعدد ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے جس کے سبب لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں، بیلجئیم میں لوگوں پر اس بات کیلئے زور ڈالا جارہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ ہفتے میں کم از کم 2 بار آلو کے چپس ضرور کھائیں۔

بیلجیئم میں لوگ آلو کی چپس بہت شوق سے کھاتے ہیں اور ملک کے تمام شہروں کی تقریبا ہر گلی اور سڑک پر چپس والے دکھائی دیتے ہیں جب کہ ہوٹلوں اور شاپنگ مالز میں بھی چپس کے خصوصی اسٹال دکھائی دیتے ہیں۔

بیلجیئم ہر سال یورپی ممالک سمیت دنیا بھر کے تقریبا 100 کے قریب ممالک کو 15 لاکھ ٹن آلو فروخت کرتا ہے تاہم اس بار لاک ڈاؤن کی وجہ سے سرحدیں اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوتا دکھائی دے رہا۔

بیلجیئم میں لوگ آلو کی چپس کو نہ صرف کیچپ بلکہ مایونیز کے ساتھ بھی بہت شوق سے کھاتے ہیں اور بیلجیئم کا شمار آلو کی پیداوار کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے تاہم کورونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں پر لاکھوں ٹن آلو خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی اور کاروبار زندگی مفلوج ہونے کے باعث آلو کی دوسرے ممالک کو ترسیل بند ہونے سے وہاں پر لاکھوں ٹن آلو خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر بیوپاریوں اور کسانوں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران ہفتے میں کم از کم 2 بار چپس کھائیں۔

احتیاطی تدابیر 

ذیابیطس(شوگر) کے مریضوں کو آلو اور اس کی مصنوعات خصوصاً چپس٬ فنگر چپس وغیرہ کھانے میں خصوصی احتیاط برتنی چاہئے۔ نقرس اور گنٹھیا کے باعث ہونے والے جوڑوں کے درد میں آلو مفید نہیں لہذا ایسے مریض آلو نہ کھائیں۔

گرم مصالحوں کے ساتھ اس کا استعمال زیادہ محفوظ ہے۔ ایک آدمی کو ایک دن میں ڈھائی سو گرام سے زیادہ آلو نہیں کھانا چاہیے۔ چھیلے ہوئے آلوؤں کی نسبت بغیر چھیلے ہوئے آلو پکاتے وقت کم وٹامنز ضائع ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں