مولانا سمیع الحق کو دارالعلوم حقانیہ میں سپرد خاک کر دیا گیا -
The news is by your side.

Advertisement

مولانا سمیع الحق کو دارالعلوم حقانیہ میں سپرد خاک کر دیا گیا

نوشہرہ: جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو دارالعلوم حقانیہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین و نماز جنازہ میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے اکوڑہ خٹک میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں والد کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔

مولانا کی نماز جنازہ اکوڑہ خٹک کے کالج گراؤنڈ میں ان کے بیٹے حامد الحق نے پڑھائی۔

نماز جنازہ میں گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، راجہ ظفر الحق، امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور اقبال ظفر جھگڑا سمیت سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مولانا سمیع الحق پر راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ مولانا کے بیٹے کا کہنا تھا کہ والد کو گھر پر چھریوں کے وار سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔

مولانا سمیع الحق اسپتال منتقل کرنے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اہلخانہ نے مولانا کا پوسٹ مارٹم سے انکار کردیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں ان کے کمرے میں پہنچیں اور فرانزک لیب کے ماہرین نے تفتیشی افسران کے ساتھ مل کر شواہد اکھٹے کیے۔

تفتیشی ٹیم نے مقتول رہنما کے زیر استعمال اور کمرے کی چیزوں سے فنگر پرنٹس کے شواہد لیے جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے ریکارڈ روم سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ڈیٹا بھی حاصل کیا۔

خیال رہے کہ مولانا سمیع الحق ممتاز مذہبی اسکالر اور سینئر سیاست دان تھے۔

وہ 18 دسمبر 1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے جبکہ وہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر بھی رہے۔

مولانا سمیع الحق سینیٹر بھی رہے، وہ متحدہ دینی محاذ کے بانی تھے جو پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ یہ اتحاد انہوں نے سنہ 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں