The news is by your side.

Advertisement

کراچی : پلاٹوں کے جعلی کاغذات بنانے والا نیٹ ورک بے نقاب، ملزمان کے ہوش اڑا دینے والے انکشافات

کراچی: شہر قائد میں پلاٹوں کے جعلی کاغذات بنانے والا نیٹ ورک پکڑا گیا، پولیس نے 3 ملزمان کو گرفتار کرکے پلاٹوں کی جعلی فائلیں برآمد کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں شاہراہ نورجہاں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور کارروائی کے دوران جعلی کاغذات بنانے میں ملوث 3ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ایس ایس پی سینٹرل ملک مرتضیٰ نے بتایا ملزمان سے کئی پلاٹوں کی جعلی فائلیں برآمد کی گئیں ہیں، گرفتارملزمان میں رئیس احمد،خلیل احمداورمحمد چاند شامل ہیں۔

ملک مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ 200 سے زائدسرکاری اداروں عدالتوں،بینک ڈپٹی کمشنربینکس کی مہریں بھی برآمد ہوئیں۔

گرفتارملزمان نے ہوش اڑا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان اہم سرکاری اداروں کے جعلی کاغذات بناتے تھے، گروہ کاسرغنہ خلیل ڈکیتی سمیت قتل کےمقدمےمیں جیل جاچکاہے۔

ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا تھا کہ ملزم سرکاری افسران کے گھروں کی ریکی کرکے ڈکیتیاں کرواتا تھا ، ڈکیتی کی منصوبہ بندی سٹی کورٹ کی کینٹین میں کی جاتی تھی۔

ملک مرتضیٰ نے کہا کہ اےسی ایل سی کا افسرخضرحیات بھی ڈکیتوں کاسہولت کار ہے، خضرحیات نےکئی ججوں کی ریکی بھی کروائی، ان ججوں کی ریکی کروائی جن ججوں نےاسےسزادی تھی ۔ سٹی کورٹ کےمتعددپیشکاربھی ملزم کی معاونت کرتے ہیں۔

ملزم خلیل نے جیل میں موجود طالبان کمانڈرز کے بارےمیں بھی اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان کمانڈرز سے فیملی کے نام پر طالبان ملنےآتےہیں، طالبان جیل میں جعلی شناختی کارڈکی مددسےملنےآتےہیں۔

ملزم خلیل کا کہنا تھا کہ وہ لوگ کو ڈورڈ میں احکامات اور نیا ٹارگٹ بھی دیتےہیں، شہرمیں دہشت گردی کب اورکہاں کرنی ہے، جیل میں احکامات دیے جاتے ہیں۔

ملزم نے مزید بتایا کہ ملزم رئیس کراچی میں پلاٹوں کی جعلی فائلیں بناکر فروخت کرتا ہے، ملزم قبضہ مافیہ،پورشن مافیاکےسہولت کار بنا ہوا تھا۔

دوران تفتیش ملزمان کے کے ڈی اے کے کئی افسران سے گٹھ جوڑ کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں