The news is by your side.

Advertisement

لاہور واقعہ: پولیس تھانے کے بجائے کینال روڈ کیوں گئی؟ اہم انکشاف

لاہور : پنجاب پولیس نے گارڈن ٹاؤن میں اہلکار کو گاڑی تلے کچلنے والے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں محافظ فورس کے اہلکار کو لگژری گاڑی تلے روندنے کے واقعے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، انویسٹی گیشن پولیس نے ملزم حمزہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل حاصل کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دوران تفتیش گاڑی میں ڈھائی کروڑ روپے موجود ہونے کا دعویٰ کیا لیکن گاڑی مکمل طور پر جل چکی تھی اور رقم کا کوئی علم نہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فیصل آباد میں واقع ایک ٹیکسٹائل مل کا مالک ہے جب کہ ملزم سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ گاڑی مال روڈ کے قریب واقع شوروم میں عمر شیخ نامی شخص سے خریدی تھی اور ہوٹل میں عمر شیخ سے ملاقات تھی، نئی گاڑی خریدنے کےلیے رقم لیکر آیا تھا۔

دوسری جانب کینال روڈ پر لگژری گاڑی کی ٹکر اور آگ لگنے کے واقعے پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ مال روڈ ہوٹل سے گاڑی گارڈن ٹاؤن کیسے پہنچی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم شخص نے ہوٹل انتظامیہ کو گاڑی مالک کو کمرہ دینے کےلیے فون کیا تھا، جس پر ہوٹل انتظامیہ نے معاملے کو مشکوک جانتے ہوئے پولیس کا مطلع کیا۔

اطلاع ملتے ہی محافظ فورس کے دو پولیس اہلکار عاشق اور منور ہوٹل پہنچے اور لگژری گاڑی والے شخص کو تھانے چلنے کو کہا اور اس دوران پولیس اہلکار منور گاڑی میں سوار ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق حمزہ جاوید نامی شخص نے پولیس اہلکار کو دو لاکھ روپے رشوت کا لالچ دیا، جس کے بعد پولیس اہلکار 1 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع پولیس اسٹیشن جانے کے بجائے نہر پر چلے گئے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ نہر پر اہلکار منور اور حمزہ جاوید میں تلخ کلامی ہوئی جس پر معاملہ خراب ہوگیا اور نتیجہ اہلکار کو کچلنے اور گاڑی میں آگ لگنے کی صورت میں سامنے آیا۔

 پولیس کے مطابق حادثہ میں ایک شہری سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے، واقعے کی ایف آئی آر اقدام قتل، اغوا اور دیگر دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں