site
stats
اہم ترین

قمرباجوہ آرمی چیف، زبیر حیات چیئرمین جوائنٹ چیفس مقرر

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نئے آرمی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز کردیا جبکہ جنرل زبیر حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جنرل راحیل شریف کی سبکدوشی کے بعد وزات دفاع کی جانب سے بھیجی جانے والی سمری میں شامل چار ناموں میں سے جنرل قمر باجوہ کو پاک فوج کی کمان دے دی گئی ہے۔  سنیارٹی میں دو نمبر پر آنے والے لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کردیا گیا۔

تجزیہ نگار ارشد شریف کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کے باضابطہ کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا تاہم اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم نے چار میں سے دو افراد کو آرمی کی کمان دے دی ہے۔

bajwa-post-1

لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کون ہیں؟ 

وہ اس وقت جی ایچ کیو میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلوئیشن ہیں اور یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے پاس تھا اور سنیارٹی میں ان کا نمبر چوتھا ہے۔

سنیارٹی میں اول نمبر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے، دوم لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات اور سوم نمبر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم ہیں۔

قمر جاوید باجوہ پاک فوج کی سب سے بڑی 10 کور کی کمانڈ کرچکے ہیں، قمر باجوہ کے پاس لائن آف کنٹرول کی ذمہ داری تھی۔ اس کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ بطور بریگیڈ کمانڈر کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی کمانڈ بھی کر چکے ہیں۔

جنرل قمر آرمی کی سب سے بڑی دسویں کور کو کمانڈ کرچکے ہیں جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کی۔

کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربے کے سبب جنرل قمر دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ہندوستان سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجودہ نے دسویں کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دی ہیں۔

bajwa-post-2

انفنٹری بلوچ رجمنٹ کے چوتھے آرمی چیف

لیفٹینینٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے تعلق ہے، تین آرمی چیف کا تعلق بلوچستان سے رہ چکا ہے
کشمیر اور ناردن ایریاز میں تعینات رہے ہیں۔

بلوچ رجمنٹ انفنٹری سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجودہ۔جی ایچ کیو میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلوئیشن کے عہدے پر تعینات تھے یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے پاس تھا۔

وزیراعظم کے ترجمان نے بھی تصدیق کردی

وزیراعظم کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے جنرل قمرجاوید باجوہ کو نیا آرمی چیف مقررکردیا ہے۔ سنیارٹی میں ان کا نمبر چوتھا ہے، ان کا تعلق انفنٹری بلوچ رجمنٹ سے ہے، وہ چوتھے آرمی چیف ہیں جن کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے، سابقہ آرمی چیف یحییٰ خان، جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کا تعلق بھی بلوچ رجمنٹ سے تھا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر آنے والے لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کردیا گیا۔ ہے،جنرل زبیر حیات چیف آج جنرل اسٹاف کے عہدے پر تعینات تھے ، وہ ڈی جی اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن بھی رہے۔

جنرل زبیر محمود حیات کے بارے میں

جنرل زبیر محمود حیات کا تعلق آرٹلری رجمنٹ سے ہے، وہ فورڈ سل اوکلوہاما امریکا سے فارغ التحصیل ہوئے،کمانڈ اینڈ اسٹاف کیمبرلے یوکے سے ڈگری حاصل کی، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویشن بھی کیا، انہیں کمانڈ اسٹاف اور انسٹرکشنل پوسٹوں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔

جنرل زبیر محمود حیات پاکستان ایمبیسی یو کے میں ڈیفنس اتاشی بھی رہے، بریگیڈ انفٹری ڈویژن کی بھی قیادت کرچکے ہیں اور ایک کور کے چیف آف اسٹاف بھی رہے،۔

ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے سربراہ بھی رہے، انہوں نے کور کمانڈر بہاولپور کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

جی او سی سیالکوٹ اور اسٹاف ڈیوٹیز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ زبیر حیات کا تعلق فوجی گھرانے سے ہے، ان کے والد لیفیننٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔

جنرل زبیر حیات کے ایک بھائی لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کے چیئرمین ہیں جبکہ دوسرے بھائی احمد محمود حیات آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل اینالائسز ہیں۔

چار فوجی افسران سپر سیڈ ہوگئے

جنرل زبیر حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی ترقیوں کی وجہ سے پاک فوج کے چار افسران سپر سیڈ ہوگئے، ان میں کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، کور کمانڈر بہاولپو لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے، ڈی جی جوائنٹ اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا واجد حسین شامل ہیں۔ یاد رہے کہ یہ چاروں افسران حسب روایت اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top