site
stats
حیرت انگیز

سائنسدانوں کی چھیڑچھاڑ‘ تیسری آنکھ اگ آئی

Genetic

جینیاتی سائنس کے میدان میں ایک اور کامیابی حاصل کرتے ہوئے سائنسدانوں نے بھونرے میں از خود نئے اعضا پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انڈیانا یونی ورسٹی کے ماہرینِ حیاتیات نے بھنورے کے ایک ایسے جین کو کام کرنے سے روک دیا جوکہ اس کے سرکی ساخت بنانے کا ذمہ دار تھا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں بھونرے نے اپنے سر پر تیسری بڑی آنکھ از خود اگالی جو کہ پوری طرح کام کررہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس جین کا نام اوتھوڈینٹیکل ہے جسے کام کرنے سے روکا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں بھنوروں نے تیسری بڑی آنکھ یا مزید دو آنکھیں از خود پید ا کی ہیں۔

اسی یونی ورسٹی کے سائنسدانوں نے اسکیننگ الیکٹرون مائیکروسکوپس ا ستعمال کرکے اس نئی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی گئی ہے خصوصی طور پر وہ اعصابی نظام سے کس طرح منسلک ہے ‘ ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔

ماہرین کے مطابق یہ آنکھیں نمائشی یا غیر ضروری نہیں بلکہ یہ پوری طرح کام کرتی ہیں اور بھونرے کی دیکھنے کی صلاحیت کو مزید بہتر بناتی ہیں۔

Genetic

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ بالکل حادثاتی طور پر شروع ہوا تھا‘ ہم یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ بھونرے کے جینز میں رد و بدل کرنے سے کیا ہوتا ہے اور ہم نے بالکل اتفاقی طور پر اضافی آنکھ اگانے کا طریقہ دریافت کرلیا۔

یاد رہے کہ سالہا سال سے سائنسدان جانوروں کی جینز میں چھیڑچھاڑ کرکے غیر متوقع جسمانی اعضا یا پورا نیا جانور تیار کررہے ہیں‘ جیا کہ کسی چوہے کی کمر پر انسانی کان اگانا وغیرہ اور اس سب کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان جو کسی حادثے کے نتیجے میں اپنے جسمانی اعضا سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کسی دن اس قابل ہوجائے کہ ان اعضاء کو دوبارہ حاصل کرسکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top