The news is by your side.

Advertisement

جرمنی نے آنکھیں پھیر لیں

برلن: جرمنی نے بھی یوکرین سے آنکھیں پھیر لی ہیں، جرمن چانسلر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک یوکرین میں جنگی طیارے نہیں بھیجے گا۔

تفصیلات کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا ہے کہ وہ پولینڈ کی طرف سے سوویت دور کے MiG-29 لڑاکا طیارے جرمنی میں امریکی رامسٹین ایئر بیس کے ذریعے یوکرین کو فراہم کرنے کی تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔

برلن میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شولز نے کہا کہ جرمنی پہلے ہی یوکرین کو دفاعی ہتھیار اور اہم مالی مدد اور انسانی امداد بھیج چکا ہے۔

واضح رہے کہ پولینڈ نے پیش کش کی تھی کہ وہ جرمنی میں امریکی فضائی اڈے کے ذریعے اپنے روسی ساختہ مِگ 29 طیارے یوکرین بھیج سکتا ہے، تاہم امریکا نے اس پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔

یوکرین کے میٹرنٹی اسپتال پر حملہ ‘فیک نیوز’ ہے: روس

اب جرمن چانسلر نے واضح کر دیا ہے کہ جرمنی نے یوکرین کو ہتھیاروں سمیت ’ہر طرح کا دفاعی سامان فراہم کیا ہے‘ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’بلاشبہ اس میں جنگی طیارے شامل نہیں ہیں۔‘

دریں اثنا برطانیہ میں ٹین ڈاؤنگ اسٹریٹ نے کہا ہے کہ نیٹو کے پائلٹس اور جنگی طیاروں کی جانب سے روسی طیاروں کو مار گرانا ’بلا جواز‘ ہوگا، وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے بھی با رہا کہا ہے کہ وہ یوکرین میں دفاعی ضروریات کے تحت ہی ہتھیار بھیجیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں