The news is by your side.

Advertisement

جرمنی نے افغانستان کے لیے امداد منسوخ کردی

برلن: جرمنی نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کی امداد منسوخ کردی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے وزیر گیرڈ مولر کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے لیے ترقیاتی امداد فی الحال روک دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان سے ان مقامی ترقیاتی عہدیداروں اور این جی او کے کارکنوں کو نکالنے کے لیے تیزی سے کام کررہے ہیں جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

جرمن وزیر نے کہا کہ افغانستان کی مشکل صورت حال نے کابل میں جرمن افواج کی قیادت میں انخلا کے مشن کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔

گیرڈ مولر نے اعتراف کیا کہ ایک جرمن فوجی طیارہ سات افراد کو لے کر کابل سے روانہ ہوا جبکہ سیکڑوں افراد زمین پر انتظار کررہے تھے کیونکہ ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے ذمہ دار اتحادی ان کی آمدورفت کو محفوظ نہیں بناسکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ملکی نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر افغانستان میں طالبان اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں تو اس ملک کی مالی امداد فوری طور پر بند کر دی جائے گی۔ جرمنی اس شورش زدہ ملک کو مالی امداد فراہم کرنے والا اہم ترین ملک ہے۔

یاد رہے کہ جرمنی سالانہ بنیادوں پر افغانستان کو چار سو تیس ملین یورو یا پانچ سو چار ملین ڈالر کی مالی امداد دیتا ہے۔ اتنی بڑی امداد کے ساتھ افغانستان کی امداد کرنے والا جرمنی سب سے بڑا ملک ہے۔

جرمن فوجی افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی فورس میں شامل تھے۔ جرمن فوج قریب بیس برس تک افغانستان میں متعین رہی ہیں اور ان کی واپسی رواں برس جون میں ہوئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں