The news is by your side.

Advertisement

افغان امن عمل، جرمنی نے تعاون کی یقین دہانی کرادی

برلن: افغانستان میں مستقل قیام امن اور طالبان سے مذاکرات کے لیے جرمنی نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرادی۔

تفصیلات کے مطابق جرمن وزير خارجہ ہائيکو ماس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جرمنی افغان امن عمل میں ہرممکن اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی وزیرخارجہ ہائیکو ماس نے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے برلن میں ملاقات کی اس دوران افغان مسئلے پر تبادلہ خیال ہوا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے افغانستان ميں انسانی حقوق سميت اقليتوں اور عورتوں کی صورت حال ميں بہتری پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر ہائیکو ماس کا مزید کہنا تھا کہ جرمنی قطر کے ہمراہ مذاکرات کے ماحول کو سازگار بنانے کے ليے تيار ہے، جس پر ہم منصب نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

طالبان اور امريکی نمائندگان کے درميان بات چيت کا اگلا دور آج سے دوحہ ميں شروع ہو رہا ہے، امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ مذاکرات دور فیصلہ کن نتیجہ نکالے گا۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا چھٹا مرحلہ گذشتہ ماہ دوحہ میں مکمل ہوا تھا، امن مذاکرات میں جنگ بندی کے اعلامیے پر خصوصی بات چیت کی گئی تھی۔

امریکا، افغان طالبان مذاکرات کا چھٹا مرحلہ آج دوحہ میں ہوگا

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ امریکی واچ ڈاگ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی حکومت امن کے لیے تیار نہیں ہے جب کہ طالبان کے معاشرے میں دوبارہ انضمام تک ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

واچ ڈاگ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی اعلیٰ قیادت کو طالبان کے معاشرے میں دوبارہ انضمام کے لیے باقاعدہ حکمت عملی کا تعین اور بد عنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات اور منشیات کے مسئلے سے نمٹنا پڑے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں