The news is by your side.

Advertisement

ٹرین کا سفر اور جالندھر کی مٹی کا کوزہ!

غلام رسول مہرؔ نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اردو ادب میں انھیں ایک انشا پرداز، جید صحافی، ادیب، شاعر، نقاد، مترجم، مؤرخ اور محقق کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

غلام رسول مہر کو بسلسلۂ روزگار چند برس حیدر آباد دکن میں گزارنے کا موقع بھی ملا۔ وہ وہاں محکمۂ تعلیم میں ملازم ہوگئے تھے۔ دورانِ ملازمت مہرؔ چھٹیاں لے کر اپنے گھر والوں سے ملنے آبائی علاقے پھول پور (جالندھر) آتے جاتے رہتے تھے۔

انھوں نے اپنی کتابوں میں حیدر آباد دکن میں اپنے قیام اور وہاں کی چند علمی اور ادبی شخصیات سے اپنی ملاقاتوں کا احوال تحریر کیا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے ٹرین کے سفر کی یادیں بھی رقم کی ہیں۔ ان کے قلم سے رقم ہوا یہ واقعہ گھر سے دوری کا کرب اور اپنے وطن کی مٹی سے محبت اور اس حوالے سے حساسیت کا اظہار ہے۔ وہ لکھتے ہیں

1917 میں حیدرآباد دکن جا رہا تھا جہاں کچھ عرصہ پائیگاہ وقارُ الامرا میں انسپکٹر آف اسکولز کی حیثیت سے کام کیا۔ لمبا سفر تھا۔

جالندھر سے دہلی، دہلی سے منماڑ اور وہاں سے چھوٹی لائن پر حیدرآباد جاتے تھے۔ چاندنی رات تھی اور میری ٹرین پورنا ندی سے گزر رہی تھی۔ میرے پاس مٹی کا ایک کوزہ تھا جس میں گھر والوں نے گاجر کا حلوا بناکر رکھ دیا تھا کہ کسی وقت کھانا حسبِ خواہش نہ ملے تو کھا لوں یا ناشتے میں کام دے سکے۔

کوزہ حلوے سے خالی ہوچکا تھا، میں نے اسے کھڑکی سے نیچے پھینکنے کا ارادہ کیا اور کوزے والا ہاتھ کھڑکی سے باہر نکال کر پھینکنا چاہتا تھا، مگر پھینکا نہ گیا۔

خیال آیا کہ یہ کوزہ جالندھر کی مٹی سے بنا اور میری وجہ سے بارہ، تیرہ سو میل دور پھینکا جائے گا اور اس کا کوئی ذرہ پھر اپنے وطن نہ پہنچ سکے گا۔ چناں چہ میں نے کوزہ رکھ لیا اور ایک نظم شروع ہو گئی۔ نظم کا عنوان کوزۂ سفال تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں