The news is by your side.

Advertisement

کراچی طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ غلام سرور خان نے بتا دیا

اسلام آباد : کراچی طیارہ حادثے اور ماضی میں ہونے والے طیارہ حادثات کے حوالے سے انکشاف سامنے آئے، وفاقی وزیر غلام سرور خان نے بتایا کہ کراچی طیارہ حادثے میں ایئرکنٹرول ٹاوراورپائلٹ دونوں کی کوتاہی ہے، پائلٹ،کوپائلٹ کے اوور کانفیڈنس سےحادثہ ہوا جبکہ چترال حادثہ خالصتاً تکنیکی نوعیت کا تھا،پائلٹ کی غلطی نہیں تھی جبکہ بھوجاایئراورایئربلیوکےحادثے پائلٹس کی غلطی کے باعث ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کےاجلاس میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا 72 سال میں12واقعات ہوئےجن کی بروقت انکوائری نہیں ہوئی، لوگ آج تک جان نہیں سکےکہ ان حادثات کےذمہ دارکون تھے۔

غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ کراچی طیارہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دیا، تمام چیلنجزکوبالائےطاق رکھ کرانکوائری کمیشن تشکیل دیا، انکوائری کمیشن نےکراچی طیارہ حادثےپررات دن ایک کردیا، اس کے بعد انکوائری بورڈمیں اضافہ کیا،ایئربلیو کے 2پائلٹس جو اے320طیارے اڑاتے تھے ان کو انکوائری بورڈ میں شامل کیا۔

وفاقی وزیر ہوا بازی نے بتایا کہ ایئر بس کی ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور معلومات حاصل کیں، شفاف انکوائری ہورہی ہے،یہ عبوری رپورٹ ہے، یہاں تو6،6سال تک رپورٹ نہیں آسکی۔

طیارہ حادثے میں متاثرہ گھروں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جن گھروں پر طیارہ گراان کا بھی سروے کرایا، 29 گھرمتاثرہوئے ، کچھ مکمل تباہ ہوئے، سروے بھی جاری ہے، متاثرہ گھروں کےرہائشیوں کیلئےمتبادل انتظامات کئے گئے ہیں، متاثرہ خاندانوں کورہائش کیلئےجگہ دی،رقم بھی فراہم کی جارہی ہے۔

غلام سرورخان نے کہا کاک پٹ وائس ریکارڈربہت اہم ہوتا ہے، کاک پٹ وائس ریکارڈرمیں تمام گفتگوہوتی ہے، بدقسمت طیارے کے کیبن کریو کے آخری الفاظ بھی میں نے سنے، یکم جون کوکاک پٹ وائس ریکارڈرفرانس لےجایاگیا،2جون کوڈی کوڈ ہوا، ڈی کوڈ کرنے کے بعد وائس ریکارڈنگ کو سنا گیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ سےکچھ حقائق عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں، اڑان سےپہلےطیارہ مکمل طور پر فٹ تھا، 7 مئی تک طیارہ رکا رہا،22مئی کو طیارہ حادثے کا شکارہوا، 7 مئی سےحادثے تک 6مرتبہ طیارے نے کامیاب پروازیں مکمل کیں، طیارے کی لاہور سے کراچی اور ایک پرواز شارجہ کیلئے بھی تھی۔

کراچی طیارے حادثے کے پائلٹ سے متعلق انھوں نے کہا کہ پائلٹ اورکوپائلٹ طبی طورپرفٹ بھی تھے، طیارہ جب لینڈنگ پوزیشن میں آیاتوپائلٹ نے کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی، طیارہ رن وےسے10میل کےفاصلےپر7ہزار200فٹ کی بلندی پرتھا، کنٹرولر نے3بارپائلٹ کوبتایا کہ آپ کے طیارےکی اونچائی اب بھی زیادہ ہے ، لینڈنگ کی پوزیشن نہ لیں،ایک چکر اور لگا کر آئیں، پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایت کو نظر انداز کیا۔

غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ رن وےسے10ناٹیکل مائل کےفاصلےپرلینڈنگ گیئرکھولےگئے، جب طیارہ5ناٹیکل مائل پرپہنچتا ہے تو لینڈنگ گیئر اوپر کر دیے گئے، طیارےکےانجن 3باررن وے سے رگڑے کھاتے رہے، رن وے پررگڑےکھانےکےدوران پائلٹ نے طیارہ دوبارہ اڑالیا اور اس دوران پائلٹ نے کوئی ہدایت نہیں لی۔

وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ ایئرکنٹرول ٹاوراورپائلٹ دونوں کی کوتاہی ہے، کنٹرول ٹاورکی کوتاہی ہے جو پائلٹ کو بھی آگاہ نہیں کیا، طیارےکےدونوں انجن ڈیمج ہوچکے تھے،پائلٹ کی کوتاہی تھی جو طیارہ دوبارہ اڑایا، بدقسمتی سے طیارہ گرگیا اور اس میں آگ بھی لگ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ طیارےسےکسی کی کرسی مکان پر گری، ایک منزل سے نیچے والی منزل پر پہنچا، جب وہ شخص پہلی منزل پرآیاتواسے ریسکیوکیاگیا، اس شخص نے پہلی کال اپنی ماں کو کی اور سارا واقعہ بتایا، اس شخص نےماں سےکہاکہ آپ کی دعاؤں کی بدولت آج میں بچ گیا ہوں۔

  پائلٹ کے آخری 3الفاظ ، یااللہ،یااللہ،یااللہ

غلام سرورخان نے کہا ایئرٹریفک کنٹرولراورپائلٹ نےہدایات پرعمل نہیں کیا، انجن کے رگڑا کھانے کے نقصان پرایئرٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کوآگاہ نہیں کیا، وائس ریکارڈپرآخری آدھےگھنٹےکی ریکارڈنگ سنی، آخری 3الفاظ پائلٹ کے تھے ، یااللہ،یااللہ،یااللہ۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پائلٹ اورکوپائلٹ فوکس نہیں تھے،ذہن پرکوروناسوارتھا، پائلٹ اورکوپائلٹ کوروناپرہی بات چیت کررہے تھے، اپنی بات چیت میں بتارہے تھےکہ کورونا سے پوری فیملیز بھی متاثر تھیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ بات بتاتےہوئےدکھ ہورہاہےکہ طیارہ مکمل ٹھیک تھا،آٹولینڈنگ پرلگا ہوا تھا، پائلٹ نےطیارےکوآٹوسےنکال کرمینوئل پرکردیا، میں پائلٹ کے گھر گیا،ان کے بھائی میرےجاننے والے ہیں، انتہائی تجربہ کارپائلٹ تھے،ان کی فیملی سےافسوس کااظہار کیا۔

کراچی طیارہ حادثہ : پائلٹ،کوپائلٹ کے اوور کانفیڈنس سےحادثہ ہوا

غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ زیادہ افسوس اس بات کا ہےکہ پائلٹ،کوپائلٹ کے اوور کانفیڈنس سےحادثہ ہوا،کیبن کریو،اےٹی سی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے، ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیاجائےگا اور رواں سال تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی جائےگی۔

بھوجاایئراورایئربلیوکےحادثے پائلٹس کی غلطی کے باعث ہوئے

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایئربلیوکا طیارہ اوربھوجاایئرلائن کےطیارےکےحادثات ہوئے، چترال سےآنیوالاطیارہ اورگلگت سےآنیوالاطیارہ بھی حادثےکاشکارہوا، جوغلطی کراچی میں پائلٹ سےہوئی وہی غلطی گلگت کےپائلٹ سےبھی ہوئی، کریش لینڈنگ توہوئی لیکن گلگت واقعےمیں مسافرمحفوظ رہے،طیارہ تباہ ہوگیا، گلگت واقعےسےمتعلق بھی مکمل انکوائری اس سال پیش کردی جائے گی۔

چترال حادثہ خالصتاً تکنیکی نوعیت کا تھا،پائلٹ کی غلطی نہیں تھی

ان کا کہنا تھا کہ چترال حادثہ خالصتاً تکنیکی نوعیت کا تھا،پائلٹ کی غلطی نہیں تھی،چترال طیارہ حادثےکی انکوائری مکمل ہوچکی ہے، بھوجاایئرحادثے میں بھی عملے کی کوتاہیاں سامنے آئیں،بھوجاایئراورایئربلیوکےحادثے پائلٹس کی غلطی کے باعث ہوئے ، پہلے حادثےمیں152،دوسرے حادثے میں127افراد شہید ہوئے۔

غلام سرورخان نے کہا کہ تمام رپورٹ دیکھیں اور کہا کہ تھوڑا پائلٹس کو بھی دیکھ لیاجائے ، 4 پائلٹس جن کی ڈگریاں جعلی تھیں یہ بدقسمتی ہےہمارےملک کی، اداروں میں بھی میرٹ،ڈی میرٹ نہیں دیکھاجاتا، کسی کوبھرتی کراناہےتوان کی ڈگری میرٹ کے مطابق ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 90 فیصدڈرائیونگ لائسنس بھی امتحان کےبغیرپیسےدےکرمل جاتے ہیں، 50 سال پریکٹیکل لائف میں کسی ڈرائیور کسزا ہوتے نہیں سنا ہے، 10 بندے مارو یا50 مارو،ڈرائیورز عدالت سے بری ہوکر آجاتےہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ پائلٹ کئی سوانسانوں کولیکرہوامیں اڑتاہے،اسےبھی سیاسی بنیادپربھرتی کرایاجاتاہے، 262 افرادایسےتھےجن کی جگہ کسی اور نے امتحانات دیے،یہ بدقسمتی ہے، افسوس زیادہ اس بات کا ہے جعلی ڈگریاں اورجعلی لائسنس بھی بنواکردیےگئے۔

غلام سرورخان نے ایوان میں بتایا کہ 30 فیصدپائلٹس کےلائسنس فیک ہیں،انہوں نےخودامتحانات نہیں دیے، 30 فیصدپائلٹس کافلائنگ کاتجربہ بھی ٹھیک نہیں،اس پرایکشن شروع کرادیاہے،24 لوگوں کو شوکاز دیے،وہ عدالت بھی گئے،9 پائلٹس نے روتے روتےعدالت میں اپنی غلطی کو مان بھی لیا، ان پائلٹس نےکہاغلطی ہوگئی ہےہمیں معاف کردیں،معاف تو اللہ کرنے والاہے، اس معاملے میں سیاست اور کوئی پسند نہ پسند شامل نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو بھی حالات سے آگاہی ہوچکی ہے،یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، تمام ذمہ داروں کےخلاف ایکشن ہوگا، یہ فیصلہ ہے پی آئی اےپرائیویٹائزنہیں ہوگا،اس کی ری اسٹرکچرنگ کرنی ہے، پی آئی اےکو 70یا80کی دہائی والابناناہے ، ذمہ داری تھی رپورٹ سامنے رکھنی تھی اور ماضی کاحال بھی بتانا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں