The news is by your side.

Advertisement

گونڈرانی: نصف صدی نہیں‌ ہزاروں برس پرانا قصہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کئی تفریحی مقامات ہیں جن کے بارے میں حکومت اور متعلقہ محکمے کی غفلت کی وجہ سے ہم بنیادی معلومات اور آگاہی نہیں رکھتے، اگر اس حوالے سے کوشش کی جائے تو ان مقامات کی بدولت قومی خزانے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان میں تاریخی عمارتیں، آثار اور قدرتی تفریح گاہیں شامل ہیں۔

گونڈرانی بھی ایک ایسا ہی مقام ہے جسے شہرِ روغان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں پہاڑوں میں سیکڑوں غار ہیں، جو کسی زمانے میں رہائشی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ تاہم ان کی حقیقت، وہاں بسنے والوں کے بارے میں عام معلومات، اور ان کے رہن سہن، مذہب، ثقافت وغیرہ کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں۔ تاریخ اور قدیم آثاروں سے متعلق کتب بھی اس حوالے سے کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔

گونڈارنی، پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تقریبا 175 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع لسبیلہ میں واقع ہے اور قدیم قصبے بیلہ کے شمال میں 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

مؤرخین کا خیال ہے کہ یہ غار بدھ مت کے پیروکاروں نے تعمیر کیے تھے اور بلوچستان میں ایسے دوسرے پہاڑ بھی ہیں جن کو تراش کر رہنے کا ٹھکانہ بنایا گیا تھا اور یہ زیادہ تر بدھ مت کے پیروکاروں کے ہیں۔

جس زمانے میں ہندوستان پر برطانیہ کا راج تھا، تو اس مقام پر 1500 غار تھے، جن کا نشان مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مٹ گیا اور اکثر موسم کی سختیوں کا مقابلہ نہ کرسکے اور منہدم ہوگئے۔

اب ان غاروں میں سے صرف 500 باقی بچے ہیں۔ بلوچستان کے اس قدیم تاریخی ورثے سے متعلق کئی قصے اور کہانیاں بھی مشہور ہیں۔ ان غاروں کے پُراسرار اور تاریک ماحول نے یہاں آنے والوں کو طرح طرح کی کہانیاں گھڑ لینے پر مجبور کیا اور ویرانی کی وجہ سے لوگوں نے اسے جنات یا بد روحوں کا مسکن قرار دے دیا۔ یہ تصوراتی کہانیاں اور من گھڑت قصے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے بیش قیمت اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کو نظرانداز کرنا ہماری سنگین غفلت اور کوتاہی کا واضح ثبوت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں