The news is by your side.

Advertisement

حکومت اینٹی باڈیز ٹیسٹ بھی شروع کرے: ڈاکٹر طاہر شمسی

کراچی: بلڈ ڈیزیز کے اسپیشلٹ ڈاکٹر طاہر شمسی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پی سی آر ٹیسٹ پر لوڈ کم کرنے کے لیے اینٹی باڈیز ٹیسٹ بھی شروع کیے جائیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈاکٹر طاہر شمسی نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے ایک اہم ٹیسٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی باڈیز ٹیسٹ کی مدد سے کرونا سے صحت یاب افراد کی پہچان ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہے تو ایس او پیز کے تحت معیشت کا پہیا چل سکتا ہے، وفاق کا محکمہ صحت مہربانی کرے، اینٹی باڈی کا ٹیسٹ دستیاب ہونا ضروری ہے، شہری اپنے اپنے ٹیسٹ کروا کے اپنے اپنے کاموں پر جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے خلاف بننے والی آئی جی جی اینٹی باڈیز کے لیے آئی جی ایم کے استعمال کی اجازت تاحال نہیں دی گئی ہے، نہ ہی ٹیسٹس کی کٹس وفاقی حکومت نے فراہم کی ہیں، اس ٹیسٹ کے ذریعے کرونا وائرس کے پی سی آر ٹیسٹ پر لوڈ کم ہو جائے گا، اور بہت سے ایسے لوگوں کی بھی نشان دہی ہوگی جو کرونا سے متاثر ہوئے اور خود بخود صحت یاب ہو گئے کیوں کہ متعدد افراد میں کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

بڑی کامیابی ، پاکستان میں کرونا کےعلاج کیلیے پلازمہ تھراپی کا فیصلہ

ماہر امراض خون کا کہنا تھا کہ اینٹی باڈیز ٹیسٹ ان تمام لوگوں کی نشان دہی کرے گا جو کرونا سے بغیر علامات کے متاثر ہوئے ہیں، ٹیسٹ میں ان لوگوں کے خون میں اینٹی باڈیز کی نشان دہی سے معلوم ہوگا کہ انھیں کرونا لاحق ہوا تھا۔ انھوں نے این ڈی ایم اے اور وفاقی صحت کے اداروں سے اپیل کی کہ اس معاملے پر بھی توجہ دی جائے۔

ڈاکٹر شمسی نے کہا کہ تمام وفاقی صحت کے شعبہ جات سے درخواست ہے کہ اس ٹیسٹ کے لیے اجازت نامہ جاری کریں، کیوں کہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی صوبائی حکومت ملک میں ٹیسٹنگ کے اجازت نامے نہیں دے سکتی۔

واضح رہے کہ این آئی بی ڈی اور جناح اسپتال میں پلازما امونائزیشن کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے، ڈاکٹر سیمی جمالی نے آر وائی نیوز کو بتایا کہ ملک میں پہلی مرتبہ کو وِڈ نائنٹین میں پلازما امونائزیشن استعمال کیا جا رہا ہے، جناح اسپتال میں کرونا کے مریضوں کے لیے پلازما تھراپی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں