The news is by your side.

Advertisement

حکومت اور کالعدم جماعت کے درمیان نامعلوم مقام پر مذاکرات شروع

لاہور: حکومت اور کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان نامعلوم مقام پر مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق حکومتی وفد اور کالعدم ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات نامعلوم مقام پر ہورہے ہیں، جس میں حکومتی وفد کی سربراہی شیخ رشید احمد کررہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کی سینئر قیادت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کوٹ لکھپت جیل میں نہیں ہورہے۔

قبل ازیں ٹی ایل پی شوریٰ سے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہونے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کوٹ لکھپت جیل جا کر سعد رضوی سے بات چیت کر کے معاملہ حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے بعد میں تبدیل کردیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں ایک وفاقی وزیر اور ایک صوبائی وزیر شامل ہے جو کالعدم جماعت کی تین رکنی کمیٹی سے بات چیت کی کوشش کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: کالعدم تنظیم نے اپنی کمیٹی کا اعلان کر دیا، حکومتی ٹیم سے مذاکرات آج ہوں گے

اس سے قبل کالعدم تنظیم نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے سربراہ کے بغیر کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی قافلے کو جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

کالعدم تنظیم کی مذاکراتی کمیٹی میں مفتی محمد وزیر علی، علامہ غلام عباس فیضی، اور مفتی محمد عمیر الظاہری شامل ہیں۔

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کے لیے پنجاب کابینہ کے سینئر اراکین راجہ بشارت اور چوہدری ظہیر الدین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، علی امین گنڈا پور آج خصوصی طیارے سے لاہور پہنچے، جب کہ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری پہلے ہی لاہور پہنچ چکے ہیں۔

آج بھی کالعدم تنظیم کے لانگ مارچ کے دوران شیخوپورہ میں جی ٹی روڈ پر مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی، پولیس کی متعددگاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، جب کہ مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے شیلنگ کی۔ کالعدم تنظیم کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پرتشدد واقعات میں آج مذہبی جماعت کے کارکنان کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں