The news is by your side.

Advertisement

بر آمد ی سیکٹر کو دی جانے والی سبسڈی جاری رہے گی، عبد الرزاق داؤد

اسلا م آباد: وفاقی مشیرِ تجارت عبد الرزاق داؤد نے برآمدی سیکٹر کو خوش خبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے دی جانےوالی میں سبسڈی آئندہ مالی سال بھی جاری رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت ملک میں تجارتی خسارےمیں کمی اوربرآمدات میں اضافےکے لیے ہمہ جہت کوششیں کررہی ہے اور اس مقصد کے لیے برآمدکنندگان کوسبسڈی جاری رکھی جائےگی ۔

مشیرتجارت رزاق داؤدکاکہناہےکہ تجارتی خسارےمیں کمی ہورہی ہے۔برآمدات میں سات فیصد کااضافہ ہواہے۔رجحان کو جاری رکھنےکے لیے مراعات جاری رکھی جائیں گی۔

وفاقی مشیرتجارت کا کہناتھاکہ گارمنٹس کی برآمدات میں انتیس فیصد، سیمنٹ پچیس فیصد،باسمتی چاول اکیس فیصدجبکہ فٹ وئیرز کی برآمدات چھبیس فیصد بڑھیں۔ جبکہ درآمدات کی مالیت میں چار ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔

مشیر تجارت نے یہ بھی بتایاکہ برآمدی سیکٹرکوبجلی اورگیس پردی جانے والی سبسڈی آئندہ مالی سال بھی جاری رکھی جائےگی تاکہ برآمدات بڑھانے کے اہداف حاصل کیے جاسکیں ۔
.
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اجلاس مین قومی اقتصادی کونسل نے وزیر اعظم کے زیر قیادت 1.837 ٹریلین روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی تھی ، یہ بجٹ وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگا۔

وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت سنبھالی تو ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا تھا، تمام تر کوششیں ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے پر تھیں، موجودہ معاشی بحران ہمارے لیے ایک موقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب ہم وہ تمام کام کر سکتے ہیں جو پہلے بھی کیے جا سکتے تھے، اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

آئندہ بجٹ میں سگریٹ اورمیٹھےمشروبات پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے ۔، ہیلتھ ٹیکس سے حاصل آمدن صحت کے شعبے پر خرچ کی جائے گی ، 20 سگریٹوں کی ڈبی پر10 روپے ٹیکس، 250 ملی لیٹر کے مشروبات پر ایک روپے ٹیکس لگایا جارہا ہے۔

دوسری جانب افواجِ پاکستان نے ملکی معاشی صورتحال کے پیش ِ نظر رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوج کا راشن، سفری الاؤنس اور انتظامی اخراجات میں بھی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ پاک فوج نے رواں مالی سال میں دفاعی ترقیاتی اخراجات مؤخر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، بچت کی رقم قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں