The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن : گریجویٹ فزکس ٹیچر چپس کا ٹھیلا لگانے مجبور

کراچی : کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر کی معیشت کو تباہ کردیا جس کے اثرات ایک عام انسان پر بری طرح پڑرہے ہیں، لاک ڈاؤن کے باعث جہاں بہت سے شعبہ جات بند پڑے ہیں ان ہی میں سے ایک شعبہ درس و تدریس بھی ہے۔

اسکول کالجوں اور ٹیوشن سینٹرز کی بندش کے باعث تنخواہیں نہ ملنے سے کئی اساتذہ کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں اور اہل خانہ کا پیٹ بھرنے کیلئے انہیں کوئی نہ کوئی متبادل راستہ اختیار کرنا پڑرہا ہے۔

ایک ایسی ہی مثال کراچی کے رہائشی فرحان عابد کی ہے جو ایک اچھے لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ فزکس کے ماہر استاد بھی ہیں،

لاک ڈاؤن سے قبل فرحان عابد صبح کے اوقات میں کالج اور شام کو ایک کوچنگ میں ٹیچنگ کے فرائض انجام دیتے تھے اور اپنے شوق کی تکمیل کے ساتھ گھر کے اخراجات کا بوجھ بھی اٹھاتے لیکن موجودہ حالات کی ستم ظریفی کے دوران ان کی آمدنی کے تمام راستے بند ہوگئے۔

ان حالات میں کہ ” مرتا کیا نہ کرتا ” کے مصداق انہوں نے اپنے اور اہل خانہ کی دال روٹی بحال رکھنے کیلئے مجبوراً اپنے علاقے میں چپس کا ٹھیلہ لگا لیا اور اس طرح ایک ماہر طبیعات آلو بیچنے پر مجبور ہوگیا۔

ایک یہ ہی نہیں خواتین اساتذہ نے بھی لاک ڈاؤن کے ایام میں آن لائن پکے پکائے کھانے اور فروزن فوڈز کی فروخت شروع کردی۔

ایک خاتون ٹیچر اچار بنا کر اپنا گزر اوقات کرنے پر مجبور ہیں تو کوئی گھر میں پارلر کھول کر خواتین کو بیوٹیشن کی خدمات فراہم کررہی ہیں ۔

اس حوالے سے اساتذہ کا کہنا ہے کہ اگر والدین طلباء و طالبات کی فیس بر وقت جمع کراتے تو تنخواہیں ملتیں، ہم کب تک حالات کے نارمل ہونے کا انتظار کرتے رہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں