site
stats
خواتین

اسلام کی سربلندی کی خاطر قربانیاں دینے والی عظیم خواتین

عورت چاہے ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر روپ میں قدرت کا قیمتی تحفہ ہے، جس کے بغیر کائنات انسانی کی ہر شے پھیکی اور ماند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس کا محافظ اور سائبان بنایا ہے مگر عورت اپنی ذات میں ایک تنآور درخت کی مانند ہے، جو ہر قسم کے سرد و گرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے اسی عزم و ہمت، حوصلے اور استقامت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں تلے بچھادیا۔

حضرت حواء علیہ السلام سے اسلام کے ظہور تک کئی نامور خواتین کا ذکر قرآن و حدیث اور تاریخ اسلامی میں موجود ہے، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ، ان کی ازواج حضرت سارہ علیہا السلام ، حضرت حاجرہ علیہا السلام ، فرعون کی بیوی حضرت آسیہ، حضرت ام موسیٰ، حضرت مریم ، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا، سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت سمیہ علیہ السلام ، حضرت زرق علیہ السلام ، حضرت ام حنظلہ علیہ السلام ، حضرت ام طارق علیہ السلام ، حضرت جمیلہ علیہ السلام اور دیگر کئی خواتین ہیں جن کے کارناموں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔

تاریخ اسلام خواتین کی قربانیوں اور خدمات کا ذکر کئے بغیر نامکمل رہتی ہے اسلام کی دعوت و تبلیغ میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تمام آزمائشوں اور مصیبتوں کو سہتے ہوئے ثابت قدم رہیں۔ ان خواتین پر مصیبتوں اور ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی لیکن اپنے ایثار، تقویٰ و پرہیزگاری سے ثابت کردیا کہ خواتین کسی صورت مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردار رہا وہ آج ساری دنیا کیلئے ایک واضح سبق بھی ہے۔

حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

حضور اکرم صلی اللہ علیہ السلام نے بہترین بیوی کو دنیا کی سب سے قیمتی متاع قرار دیا ہے اور اسلام کو سب سے پہلے قبول کرنے والی حضور علیہ السلام کی راز دار، ہمسفر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ذات ہی تھی، حضرت خدیجہ نے نہ صرف سب سے پہلے کلمہ اسلام قبول کیا بلکہ سب سے پہلے عمل کیا اور اپنی پوری زندگی جان و مال سب کچھ دین اسلام کے لئے وقف کردیا۔

سیدہ عالم خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے تین سال شعب ابی طالب میں محصور رہ کر تکالیف او رمصائب برداشت کئے اور جب تین سال کے بعد مقاطعہ ختم ہوا تو آپ اس قدر بیمار ار کمزور ہوگئیں کہ اسی بیماری کے عالم میں خالق حقیقی سے جاملیں۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

ازواج مطہرات میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو منفرد مقام حاصل ہے۔ آپ اپنے ہم عصر صحابہ کرام علیہ السلام اور صحابیات علیہ السلام میں سب سے زیادہ ذہین تھیں۔ اسی ذہانت و فطانت اور وسعت علمی کی بنیاد پر منفرد مقام رکھتی تھیں۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بہت بڑی سکالر تھیں اور فقہ کی عالمہ تھیں، شاعری، سائنس، طب اور تاریخ و فلسفہ پر بڑا عبور رکھتی تھیں انہی کے بارے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا آدھا دین عائشہ کی وجہ سے محفوظ ہوگا۔ آٹھ ہزار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے شاگرد ہیں۔

آپ کے بارے میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

’’دین کا آدھا علم حضرت عائشہ علیہ السلام کے پاس ہے

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا

حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا پیغمبر اسلام کے وجود کا خلاصہ ہیں۔ آپ نگاہ خداوندی میں تمام عورتوں کا انتخاب ہیں۔ سیدہ کائنات علیہ السلام نے اپنے عظیم باپ کی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے بچپن میں سرداران قریش کے ظلم و ستم کا بڑی جرات مندی، شجاعت، ہمت اور متانت سے سامنا کیا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب نبوت کا اعلان فرمایا اور اشاعت اسلام کے اہم فریضہ کو انجام دینا شروع کیا تو اس وقت نہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے مشکلات کھڑی کی گئیں بلکہ آپ کے ساتھ آپ کے خاندان کو بھی مصائب و مشکلات سے گزرنا پڑا۔ شعب ابی طالب میں عرب کے سماجی بائیکاٹ کے صبر آزما ایام میں بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اپنے والد ماجد کے ساتھ کٹھن مراحل سے گزریں۔

بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بچپن میں ایک دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم صحن کعبہ میں عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ ابوجہل کے اشارہ پر عقبہ بن ابی معیط نے مذبوحہ اونٹ کی اوجھڑی کو سجدہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی گردن پر رکھ دیا۔ حضرت فاطمہ دوڑتی ہوئی پہنچیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے اذیت و تکلیف کو دور کی۔

حضرت بی بی حاجرہ علیہ السلام

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبردار بیوی حضرت حاجرہ  جنہوں نے اللہ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں بے آب وگیاہ وادی میں رہنا قبول کرلیا تھا پھر جب وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے ،پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں تو اللہ نے ان کی فرمانبرداری اور خلوص کی قدر کرتے ہوئے، ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لیے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کردی۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت بہادر اور نڈر خاتون تھیں، آپ دوران جنگ بے خوف و خطر ہوکر زخمیوں کو میدان جنگ سے باہر لاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔

رسول الله صلی الله علیه وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ نے غزوه خندق میں نہایت بہادری کا مظاہره کرتے ہوئے جب دوران جنگ ایک یہودی مسلمان خواتین پر حملہ آور ہوا تو آپ نے اس پر ایسا کاری وار کیا کہ اس کا سر کاٹ کر دشمن فوج میں پھینک دیا اس کے بعد دشمن فوج میں کسی سپاہی کی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ مسلمان خواتین پر حملہ کرتا۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا

وا قعہ کر بلا جہاں نوا سہء رسول امام عالی مقام رضی اللہ عنہا کی قربانیو ں کا مظہر ہے، وہیں دختر بتو ل سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے کامل کر دار کی عظمتو ں کا امین بھی ہے۔

بی بی زینب رضی اللہ عنہا ایک بلند کردار خاتون تھیں ، انھوں نے نہ صرف اپنے بیٹوں کی شہادت کا غم سہا بلکہ اپنے شیر جوان بھتیجوں شہزادہ علی اکبر، شہزادہ قاسم، معصوم علی اصغر، با وفا بھائی عباس علیہ السلام اور فخر انسانیت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا غم سہ کر قربانیوں کی تاریخ میں تمام خواتین کیلئے واضح نمونہ عمل قائم کر دیا۔

واقعہ کربلا کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب دمشق لے جائی گئیں، جہاں یزید کے دربار میں دیا گیا ان کا خطبہ بہت مشہور ہے۔

حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا

ام عمارة ایک مشہور صحابیہ تھیں ،غزوه احد میں شریک تهیں جب تک مسلمان فتح یاب رہے مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلا رہی تھیں لیکن کفار مکہ نے مسلمانوں پر اپنا گھیرا تنگ کردیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب زخمی ہوگئے تو یہ افواہ پھیلادی کہ نعوذ باللہ آقا علیہ السلام شہید ہوگئے ہیں تو اس انتہائی نازک صورتحال کے موقع پر حضرت ام عمارہ علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کیا اور شمشیر زنی کا ناقابل فراموش مظاہرہ کیا۔ آپ نے جنگ یمامہ میں بھی شرکت کی اور دشمن فوج کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔

حضرت سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہا

حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا درجہ شہادت پانے والی پہلی خاتون ہیں۔ آپ جب اپنے شوہر یاسر بن عامر اور اپنے بیٹے عمار بن یاسر کے ساتھ ایمان لائیں تو اس وقت اسلام کا ابتدائی مصائب و آلام کا دور تھا۔ آپ کا تعلق غلام خاندان سے تھا جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کی نسبت آپ کو کفار کے زیادہ غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کو اور آپ کے شوہر یاسر کو لوہے کی زرہیں پہنا کر مکہ کی تپتی ریت پر لٹانا، سینے پر بھاری پتھر رکھنا، پشت کو آگ کے انگاروں سے داغنا کفار کا معمول تھا۔ آپ کے پیچھے شریر بچوں کو لگادیا جاتا جو آپ کو پتھر مارا کرتے تھے۔ ان تمام مصیبتوں کو سہنے کے باوجود آپ کے جذبۂ ایمان میں ذرہ برابر بھی لغزش پیدا نہ ہوئی۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اور آپ کے بچوں کو مصیبت میں مبتلا دیکھا تو فرمایا: اے آل یاسر! صبر کرو تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی غرض سے غار ثور میں پناہ لی تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا جو کہ اس وقت کم سنی کی عمر میں تھیں کو اپنا راز دار بنایا۔ آپ قریش مکہ کی نظروں سے چھپ کر غار ثور میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا پہنچایا کرتی تھیں۔ ابوجہل کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے آپ کو زدو کوب کرکے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پتہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو آپ نے بتانے سے صاف انکار کردیا۔

حجاج بن یوسف جیسے ظالم اور جابر حکمران نے آپکے بیٹے کو سولی پر لٹکایا تو آپ نے اپنے بیٹے کی سولی پر لٹکتی ہوئی لاش دیکھ کر کمال صبرکا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے جابر سلطان! تو نے اس کی دنیا برباد کی اور اس نے تیری عاقبت برباد کردی۔

حضرت آسیہ زوجہ فرعون

حضرت آسیہ زوجہ فرعون کونسا کردار، عمل اور فعل ایسا تھا کہ جس نے اس خاتون کو جو ایک کافر و جابر اور ظالم بادشاہ کی بیوی ہونے کے باوجود وہ عظیم عزت اور مرتبہ سے سرفراز کیا کہ خیر النساءکا لقب عطا ہوا۔

اسلام نے عورت کو عزت اور احترام کا مقام دیا ہے۔ اس کو ماں بنا کر جنت کا سرچشمہ،بہن بنا کر ایثار و قربانی ،محبت اور الفت کا پیکر،بیٹی بنا کراللہ کی رحمت کا عملی اظہاراوربیوی بنا کر راحت و سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے، آج ہم  کو حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مجاہدانہ اور انقلابی کردار کو از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرح اپنا مال و دولت اسلام کی راہ میں نچھاور کردینے والی بیویوں کی ضرورت ہے۔ آج پھر پرچم اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے سیدہ زینب جیسی بہنوں کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے اپنا بھائی، بیٹا اور سارا کنبہ قربان ہوتے دیکھا۔ آج پھر حضرت سمیہّ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا جیسی عظیم مجاہدات اسلام تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے جام شہادت نوش کرلیا مگر اسلام پر آنچ نہ آنے دی۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top