تازہ ترین

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

سنگدل شخص نے بیوی اور 7 بچوں کو قتل کر دیا

پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں اجتماعی قتل کا...

درگاہ شاہ نورانی حادثے میں جاں بحق زائرین کی تعداد 18 ہو گئی

عید کی شب درگاہ شاہ نورانی جانے والے ٹرک...

دنیا کبھی ‘ایتھنز’ کے سحر سے باہر نہیں‌ نکل سکے گی!

یونان سے دنیا کا عشق کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ جب تک روئے زمین پر زندگی جنم لیتی رہے گی، اس وقت تک۔

بے شک ہر دور میں بنی نوعِ انسان یونان کی ہزار ہا برس قدیم تاریخ میں دل چسپی لیتا رہے گا۔ یونانی تہذیب، تمدن اور اس کے بطن سے پھوٹنے والے نظام ہائے سیاست و سماج، عام زندگی اور یونانیوں کے حالات، فکر و نظریات اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے وہ انقلابات جن سے یورپ ہی نہیں‌ پوری دنیا متأثر ہوئی، آئندہ بھی انسانوں کے لیے قابلِ رشک اور موضوعِ بحث رہیں‌ گے۔

براعظم یورپ کی اس تہذیب اور معاشرت سے فکر و دانش کے جو سوتے پھوٹے اس نے جدید دنیا کو جمہوریت کا تحفہ بھی دیا اور فکر و فن کی وہ بلندیاں بھی جس نے کئی شاہ کار تخلیق کیے۔ اس خطّہ میں‌ آباد قوم نے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے اپنے سب سے عظیم شہر ایتھنز میں افلاطون، ارسطو، سقراط، سکندر اور دیگر نابغۂ روزگار ہستیوں کو دیکھا اور ان کے نظریات کا گہرا اثر قبول کیا۔

موجودہ یونان کا دارالحکومت ایتھنز، ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسی کو جمہوریت کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے۔ آج لاکھوں نفوس پر مشتمل ایتھنز اقتصادی، تجارتی، صنعتی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے۔ قدیم دور میں‌ اسی شہر کو آتھینا اور ایک طاقت وَر، مستحکم اور پائیدار ریاست کا مرکز کہا جاتا تھا۔ یہاں شہرۂ آفاق شخصیات نے درس گاہوں سے تعلیم مکمل کی اور علم و فنون، ایجاد و اختراع کے لیے آج بھی ان کا نام زندہ ہے۔

چوتھی اور پانچویں صدی قبلِ مسیح میں یورپ کی ریاستوں پر یونان کے گہرے ثقافتی اور سیاسی اثرات مرتب ہونا شروع ہوئے اور اسے سیکڑوں سال تک تہذیب کا گہوارہ سمجھا جاتا رہا۔ یہ شہر پارتھینون، ایکرو پولس (بلند شہر)، کیلی کریٹس اور فیڈیاس جیسے مشہورِ زمانہ تعمیراتی شاہ کاروں کے علاوہ فنِ تعمیر کے کئی قدیم نمونوں اور نادر آثار کا حامل ہے۔

قدیم یونان دراصل ایک تہذیب کا نام ہے، جس کا عرصۂ حیات اور عروج کے ادوار کو ماہرین نے صدیوں‌ کے لحاظ سے تقسیم کیا ہے جس میں کلاسیکی زمانہ اوپر بتایا جاچکا ہے۔ اس کے بعد جدید مغربی ثقافت کا دور شروع ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق کلاسیکی دور میں یونانی ثقافت نے تہذیبی ارتقاء کے ساتھ تعلیم کو بہت اہمیت دی۔ اسی دور کی تہذیب و ثقافت نے اگلی چند صدیوں میں سائنس، ریاضی، فلسفہ و منطق اور دیگر علوم میں ترقی کی کئی منازل طے کیں۔ فنونِ لطیفہ کی بات کی جائے تو یونان میں اس زمانے میں غیر معمولی ترقی پر دنیا حیران ہے۔ ملک میں اعلیٰ قسم کا سنگِ مرمر بکثرت پایا جاتا تھا جس کے سبب یہاں فنِ تعمیر اور مجسمہ سازی نے غیر معمولی ترقی کی۔

دوسری طرف یونان ہی وہ ریاست تھی جہاں جمہوریت کا تصوّر سب سے پہلے دیا گیا اور اسی خطّے سے یہ طرزِ حکومت دنیا میں‌ پھیلا۔ ایتھنز شہر کو یونانی دیو مالا کے کردار کی نسبت ایتھنے یا آتھینا کا نام دیا گیا تھا۔ یونان جنوب مشرقی یورپ میں جزیرہ نما بلقان کے نشیب میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں البانیہ، مقدونیہ، بلغاریہ اور مشرق میں ترکی، جب کہ مغرب میں بحیرۂ ایونی اور جنوب میں بحیرۂ ایجین واقع ہیں۔

قدیم ایتھنز کو ایک طاقت ور ریاست مانا جاتا ہے جس میں پانچویں صدی قبل مسیح میں ماہر تاریخ نویس ہیروڈوٹس اور ساتویں صدی قبلِ مسیح کا عظیم شاعر ہومر بھی سانس لیتا رہا۔ اسی خطّے کے باشندے کئی لحاظ سے پستی اور اخلاقی گراوٹ کا بھی شکار تھے، جس کی نشان دہی کرنے والا عظیم دانش ور سقراط تھا اور وہاں کی اشرافیہ نے اس پر نوجوانوں کو گم راہ کرنے اور مقدّس دیوتاؤں کی توہین کے الزامات لگا کر موت کو گلے لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔

محققین نے بتایا ہے کہ مشہورِ زمانہ فلسفی افلاطون اسی سقراط کا شاگرد تھا۔ اسی نے ایتھنز میں اوّلین تعلیمی درس گاہ قائم کی تھی جس سے بعد میں‌ ارسطو جیسے دانش ور نے بھی تحصیلِ علم کیا۔ ارسطو کو ایتھنز کا سب سے ذہین انسان اور ایک تخلیق کار مانا جاتا ہے۔

ہم کہہ چکے ہیں کہ دنیا اپنے انجام تک یونان کی تاریخ میں دل چسپی لیتی رہے گی اور وہ اس لیے بھی کہ یہیں تاریخِ عالم کے عظیم فاتح سکندرِ اعظم نے بھی تقریباً تین سال تک ارسطو سے تعلیم حاصل کی تھی۔ جب ارسطو کو ایتھنز میں سزائے موت سنائی گئی، تب سکندر وہاں سے چلا گیا تھا۔

محققین اور ماہرینِ‌ آثار قطعی طور پر یہ نہیں بتاسکے کہ اس عجوبۂ عالم شہر اور نادرِ روزگار ہستیوں کے جائے پیدائش یعنی ایتھنز کی بنیاد کب رکھی گئی، لیکن ایک اندازہ یہ ہے کہ پہلے ہزاریہ قبلِ مسیح میں ایتھنز یونانی تہذیب کا ابھرتا ہوا شہر تھا۔ بعد میں یہ دنیا کا ثقافتی و تعلیمی مرکز بنا۔

قدیم دور میں‌ بھی اس شہر نے جنگیں اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت ضروری دیکھی تھی لیکن عیسوی زمانے میں اسے 13 ویں اور 15 ویں صدی میں زبردست نقصان پہنچا تھا، جب یونانی بازنطینیوں اور فرانسیسی و اطالوی صلیبیوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ 1458ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان محمد فاتح نے شہر کو فتح کر لیا تھا۔ 1821ء سے 1831ء کے دوران یونان نے جنگِ آزادی میں عثمانیوں کو کم زور کیا اور 1834ء میں ایتھنز کو آزاد یونان کا دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔

اگلی چند دہائیوں میں جدید بنیادوں پر اس شہر کو تعمیر اور قدیم ورثہ کی حفاظت اور مرمت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ 1896ء میں اس شہر نے پہلے گرمائی اولمپک گیمز کی میزبانی کی۔ شہر میں دوسری بڑی توسیع 1920ء کی دہائی میں اُس وقت ہوئی، جب ایشیائے کوچک کے یونانی مہاجرین کے لیے یہاں آبادیاں قائم کی گئیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی نے ایتھنز پر قبضہ کر لیا تھا۔

آج کا ایتھنز جدید تعمیراتی ڈھانچے کے ساتھ عالمی معیار کے مطابق بنائی گئی عمارتوں‌ کا شہر ہے جس میں‌ یادگار و قدیم عمارتیں بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

Comments

- Advertisement -