The news is by your side.

Advertisement

گجرپورہ زیادتی کیس : چند گھنٹےمیں بڑا بریک تھرو سامنے آجائے گا

لاہور: گجرپورہ زیادتی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تحقیقاتی کمیٹی کوجلدتحقیقات مکمل کرنے کردی ، کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈی این اےمیچنگ سمیت اہم شواہدمل چکےہیں ، چند گھنٹے میں بڑا بریک تھرو سامنے آجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق گجرپورہ زیادتی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے ، جس میں وزیر قانون پنجاب، چیف سیکریٹری،آئی جی ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اوردیگرحکام شریک ہیں۔

اجلاس میں لنک روڈ واقعے پرہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیاجارہاہے اور تحقیقاتی کمیٹی وزیراعلیٰ عثمان بزدارکوپیشرفت سےآگاہ کررہی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کوتحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی۔

وزیرقانون نےوزیراعلیٰ کوکیس سےمتعلق تحقیقات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کیس میں بہت مثبت پیشرفت ہو چکی ہے، ڈی این اےمیچنگ سمیت اہم شواہدمل چکےہیں، متاثرہ خاتون سےسینئرخواتین پولیس افسررابطےمیں ہے، چندگھنٹےمیں کیس کےحوالےسےبڑابریک تھروسامنےآجائےگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس نے گزشتہ روز مرکزی ملزم کو گرفتارکیا تھا جبکہ ایک ملزم کا ڈی این اے بھی میچ ہوچکا ہے۔

عثمان بزدار نے تحقیقاتی کمیٹی کوجلدتحقیقات مکمل کرنے اور ہیلپ لائنز 15اور1124کوموٹروےہیلپ لائن 130سے منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا سیالکوٹ موٹروےپولیس کی تعیناتی تک پنجاب پولیس فرائض انجام دےگی، متاثرہ خاندان کوانصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائےگی، متاثرہ خاتون کو انصاف دلانا حکومت کی ذمے داری ہے۔

گذشتہ روز مشتبہ افراد کے ڈی این اےکےلیےفرانزک اتھارٹی کوکل ساڑھے5کروڑجاری کیےگئے، فنڈوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی ہدایت پرجاری کیے گئے تھے۔

یاد رہے گوجرپورہ زیادتی کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ وزیر قانون راجہ بشارت سے رابطے کرکے تحقیقات کو جدید اور سائنٹیفک انداز سے آگے بڑھانے کی ہدایت کی تھی۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ تمام پہلوؤں اور زاویوں کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے جسے جلد سے جلد منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ تحقیقات پر ہونے والی پیشرفت سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا جائے اور درندگی کرنے والے قانون کے مطابق عبرتناک سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں