The news is by your side.

Advertisement

دس پیسے

بس ایک دس پیسے کے لیے جھگڑا ہوگیا دادی سے۔ اور چکو گھر سے بھاگ گیا۔

دس پیسے بھی کوئی چیز ہوتی ہے؟ رام منوہر کی جیب میں کتنی ریزگاری رہتی ہے، جب چاہیں جاکے پتنگ خریدسکتے ہیں۔ ایک کٹی اور دوسرے کی کنی بندھ گئی، مانجے کی چرکھی بس بھری ہی رہتی ہے….اور سدی کے کتنے سارے پتے رکھے ہیں گھر میں۔

یہ سب یاد آتے ہی پھر غصہ آگیا اسے۔ دادی ہے ہی ایسے گھنی۔ اسی لیے اتنی جھریاں ہیں اس کی شکل پر۔ رام کی دادی کی شکل پر تو ایک بھی نہیں۔ ایک کے بعد ایک اسے دادی کے سارے نقص یاد آنے لگے۔ کان کتنے ڈھیلے ڈھیلے ہیں۔ جب بھی گالوں پر چومتی ہے تو آنکھوں پر لٹک جاتے ہیں، اور پلکیں تو ہیں ہی نہیں۔ رات کو سوتی ہے تو آدھی آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔ منہ بھی کھلا رہتا ہے۔

دادی کے کارٹون بناتا، وہ ننگے پاﺅں ہی ریلوے اسٹیشن تک آگیا۔ بلا کسی ارادے کے وہ اسٹیشن میں گھس گیا۔ اور جیسے ہی گاڑی نے سیٹی دی، وہ دوڑ کے گاڑی میں چڑھ گیا۔

گاڑی چلنے کے بعد ہی اس نے سوچا کہ چلو گھر سے بھاگ جائیں اور گاڑی میں ہی اس نے فیصلہ کیا کہ زندگی میں خود مختار ہونا بہت ضروری ہے، یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ ایک ایک پتنگ کے لیے اتنے بوڑھے بوڑھے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑیں۔ اسی لیے تو اس کے بڑے بھائی بھی دادی کو چھوڑ کر بمبئی چلے گئے تھے۔ اب کبھی نہیں آتے۔۔۔۔۔ کتنے سال ہوئے۔

گاڑی کے دروازے کے پاس ہی بیٹھے بیٹھے اسے نیند آگئی۔ بہت دیر بعد جب آنکھ کھلی تو باہر اندھیرا ہوچکا تھا۔ اور تب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ واقعی گھر سے بھاگ آیا ہے۔ دادی پر غصہ تو کچھ کم ہوا تھا لیکن شکایت اور گلہ ابھی تک گلے میں رندھا ہوا تھا۔

دس پیسے کون سی ایسی بڑی چیز ہیں۔ اب اگر پوجا کی کٹوری سے اٹھالیے تو چوری تھوڑا ہی ہوئی۔ بھگوان کی آنکھوں کے سامنے لے کر گیا تھا۔ خود ہی تو کہتی ہے دادی کہ اس کے دیوتا “جاگرت” ہیں۔ دن رات جاگتے رہتے ہیں؟ کبھی نہیں سوتے؟ نہیں! وہ آنکھ بند کرلیں، تب بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ہونہہ! تو دس پیسے کیسے نہیں دیکھے؟ اور دیکھے تو بتایا کیوں نہیں دادی کو؟ وہ تو سمجھتی ہے، میں نے چوری کی ہے۔ دادی کے بھگوان بھی اس جیسے ہیں۔ گُھنے، کم سنتے ہیں، کم دیکھتے ہیں۔

کسی نے دروازے سے ہٹ کر اندر بیٹھنے کے لیے کہا۔ اسٹیشن آرہا تھا شاید۔ گاڑی آہستہ ہو رہی تھی۔ گاڑی کے رکتے رکتے ایک بار تو خیال آیا کہ لوٹ جائے، لیکن اسٹیشن پہ ٹہلتے ہوئے پولیس والوں کو دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔ وہ بنا ٹکٹ تھا، یہ خیال بھی پہلی بار ہوا اسے!

اس نے سنا تھا بنا ٹکٹ والوں کو پکڑ کے پولیس جیل بھیج دیتی ہے، اور وہاں چکی پسواتی ہے۔ دروازے کے پاس ٹھنڈ بڑھ گئی تھی۔ وہ اندر کی طرف سیٹوں کے درمیان آکر بیٹھ گیا۔ گاڑی چلی اور لوگ اپنی اپنی جگہوں پر لوٹے تو صندوق، پیٹی، بستر کے اوپر نیچے سے ہوتا ہوا وہ کھڑکی کے بالکل نیچے جاکر فٹ ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے بھوک اور پیاس کا احساس ستانے لگا۔ خود مختاری کے مسئلے ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے۔ اسے بھوک بھی ستارہی تھی پیاس بھی۔ اوپر والی برتھ پر سوئے ہوئے حضرت کی صراحی مسلسل ٹرین کے ہچکولوں سے جھول رہی تھی اور صراحی کے منہ پر اوندھا لگا ہوا گلاس بھی مسلسل کٹ کٹ، کٹ کٹ کیے جا رہا تھا۔

اس وقت نیلی وردی پر پتیلی کا چمکتا بلا لگائے، ٹکٹ چیکر داخل ہوا اس کے پیچھے ہی اس کا اسسٹنٹ، ایک بنا ٹکٹ والے کو گدی سے پکڑے ہوئے داخل ہوا۔ چکو کی تو جان ہی نکل گئی۔ چلتی ہوئی گاڑی میں یہ آدمی کیسے اندر آگیا۔ اسٹیشن سے چڑھتے ہوئے تو دیکھا نہیں تھا۔ ضرور کہیں چھپ کے بیٹھے رہتے ہوں گے یہ لوگ۔

سیٹ کے نیچے ہی نیچے، گھسٹتا کھسکتا وہ نیلی وردی کے پیچھے کی طرف جا پہنچا۔ پھر وہاں سے کھسکتا ہوا ڈبے کے دوسری طرف جا نکلا جہاں اسے ٹائلٹ نظر آگیا۔ بس اسی میں گھس گیا اور کھول کے کموڈ پر بیٹھ گیا۔ یہاں تھوڑا ہی کوئی ٹکٹ پوچھنے آئے گا؟ یہ خیال بھی آیا کہ دوسرے لوگ یہ ترکیب کیوں نہیں استعمال کرتے۔ وہ چیچک کے داغوں والا تو کر ہی سکتا تھا جسے ٹی ٹی کے اسسٹنٹ نے گدی سے پکڑ رکھا تھا۔ بہت دیر۔۔۔۔ بہت دیر بیٹھا رہا۔ ننگی ٹانگوں پر ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ تھوڑی دیر کموڈ پر بیٹھے بیٹھے نیند بھی آنے لگی تھی۔

پھر گاڑی نے پٹڑی بدلی، ایک دھچکا لگا۔ رفتار بھی کچھ کم ہونے لگی۔ بڑی احتیاط سے اس نے ٹائلٹ کا دروازہ کھولا۔ باہر جھانکا، کوئی اسٹیشن آ رہا تھا۔ نیلی وردی کہیں نظر نہیں آئی۔ گاڑی رکی تو وہ فوراً اتر گیا۔
سنسان اسٹیشن، آدھی رات کا وقت، کوئی اترا بھی نہیں۔ گاڑی تھوڑی دیر کھڑی ہانپتی رہی، پھر بھک بھک کرتی ہوئی آگے چل دی۔

چکو ایک بینچ پر سکڑ کے اپنی ہی ٹانگوں میں منہ دے کر بیٹھ گیا اور فوراً ہی تکیے کی طرح لڑھک گیا۔ ٹھک ٹھک کرتا لالٹین ہاتھ میں لیے ایک چوکی دار آیا اور کان سے پکڑ کر اٹھا دیا۔

اے۔۔۔۔ چل باہر نکل! گھر سے بھاگ کے آیا ہے کیا؟….چل نکل، نہیں تو چوکی والے دھر لیں، چکی پسوائیں گے جیل میں۔

ایک دھمکی میں وہ لڑکھڑا کے کھڑا ہو گیا۔ چوکی دار ٹھک ٹھک کرتا، پھر غائب ہوگیا۔ چکو، پلیٹ فارم کے نیچے کی طرف ٹہل گیا، جہاں مدھم سی روشنی میں ایک بوریوں کا ڈھیر پڑا نظر آرہا تھا۔ بوریوں کے پیچھے ہی کوئی بڑھیا دادی کی طرح منہ کھولے سو رہی تھی، پھٹا پرانا ایک لحاف اوڑھے۔ کوئی بھکارن ہوگی۔ نیند اور برداشت نہیں ہو رہی تھی، وہ اسی بھکارن کے لحاف میں گھس گیا۔ اسے لگا تھا جیسے دادی کے لحاف میں گھس رہا ہے۔ گاﺅں میں اکثر یہ ہوتا تھا۔ میراثن اپنے پاس سلاتی تھی اور وہ رات کو اٹھ کر دادی کے لحاف میں جا گھستا تھا۔

سَر زمین پر لگتے ہی سو گیا۔ صبح جب اٹھا تو ویسے ہی بڑھیا سے لپٹ کے سویا ہوا تھا۔ بھکارن کے سرہانے پڑے کٹورے میں ریزگاری پڑی تھی۔ پھر وہی کٹوری یاد آگئی، کل رات کی بھوک پھر عود کر آئی۔ اتنی ساری ریزگاری کیا کرے گی بڑھیا۔ دادی سے پوچھا تھا تو کہتی تھی:
مر کے بھی تو ضرورت پڑتی ہے پیسوں کی۔ ورنہ اس کاٹھی کو جلائے گا کون؟

جھوٹی! کتنی لکڑیاں پڑی تھیں گھر میں۔ اس کی نظر پھر کٹورے پر گئی۔ ایک دس پیسے نکال بھی لیے تو کیا ہے؟ یہاں تو بھگوان بھی نہیں، دادی بھی نہیں۔ اس نے اٹھالیے دس پیسے۔

بڑھیا کا لحاف ٹھیک کیا اور موتری کی طرف چلا گیا۔ واپس آکر مٹی سے ہاتھ دھوئے اور نیکر کی جیب میں ہاتھ ڈال کر پونچھے تو ٹھنڈے ٹھنڈے دس پیسے کے سکے نے ہاتھ پر کاٹ کھایا۔

واپس لوٹا تو بڑھیا کے پاس تین چار آدمی کھڑے تھے۔ ایک اس کے سَر کے پاس بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا۔
اکڑ گئی ہے، مرے ہوئے بھی آٹھ دس گھنٹے تو ہو گئے ہوں گے۔
رات نیند ہی میں چل بسی شاید! چکو گھبرا کے کھڑا ہوگیا، وہیں ویٹنگ روم سے بھی کچھ لوگ اسی طرف آرہے تھے۔
اب کیا ہو گا اس کا؟
اسٹیشن ماسٹر آئے گا تو کسی کو خبر کرے گا!
کس کو؟
میونسپلٹی کو، وہی جلائے گی لے جاکے۔

جو پاس بیٹھا تھا اس نے لحاف کھینچ کے منہ ڈھک دیا۔ چکو نے نیکر کی جیب سے دس پیسے نکالے اور بڑھیا کے کٹورے میں پھینک دیے۔ سب نے دیکھا اس کی طرف اور وہ بھاگ لیا۔
تیز، بہت تیز، اپنی دادی کے پاس۔

مصنف: گلزار

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں