انقلابی شاعر حبیب جالب کا خانوادہ بھی سرکاری نااہلی کے باعث دھکے کھانے پر مجبور -
The news is by your side.

Advertisement

انقلابی شاعر حبیب جالب کا خانوادہ بھی سرکاری نااہلی کے باعث دھکے کھانے پر مجبور

حکومتی وظیفے کے لیے دھکے کھانے پڑتے تھے اس لیے خود بند کروادیا

لاہور: عوامی اور انقلابی شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب نے کہا ہے کہ لیسکو کی جانب سے مجھے 75 ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا، حکومت کی طرف سے ملنے والا وظیفہ اب نہیں لیتے اور نہ مجھے کسی قسم کی مدد چاہیے۔

اے آروائی کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے طاہرہ حبیب جالب کا کہنا تھا کہ والد کے انتقال کے بعد ماں اور بہن بھائیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت مزدوری کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، حکومت پنجاب کی طرف سے ملنے والا شاعر کوٹے کا وظیفہ لینے کے لیے ہمیں اتنے دھکے کھانے پڑتے تھے کہ اُتنی ہی رقم (25 ہزار) خرچ کرنی پڑ جاتی تھی اس لیے اُس وظیفے کو خود ہی بند کرادیا۔

مزید پڑھیں:  بغاوت کے علم بردار حبیب جالب کے اہل خانہ کو بجلی کا اضافی بل موصول

حبیب جالب کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ ابھی آن لائن ٹیکسی چلا رہی ہوں جبکہ ماضی میں پی سی او پر بھی بیٹھ کر  گزر بسر کیا، میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہی کیونکہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوچکی۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں ڈھائی مرلے کے گھر میں رہتی ہوں اُس کے باوجود لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (لیسکو) نے پچھلے ماہ 63 ہزار کا بل بھیجا جس کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگائے اور دھکے کھائے۔

طاہرہ حبیب جالب کا کہنا تھا کہ بجلی کا جائز بل ادا کرچکی مگر پھر75ہزارکا بل بھیج دیا گیا، جب کہ میں نے سب کو جاکر بتایا کہ ہمارا گھر صرف ڈھائی مرلے کا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ میں چونکہ ایک نامور شاعر کی بیٹی ہوں اس لیے میرا مسئلہ سامنے آگیا، میڈیا کے لوگوں نے رابطہ کیا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھی صارفین نے اظہار یکجہتی کیا، ہمارے معاشرے میں ایک عام گھرانے کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں