عازمین حج کی سہولت کے لیے پاکستانی نوجوانوں نے انوکھی ایپلیکیشن تیار کرلی hajj-2018
The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی نوجوانوں کا کارنامہ،لاپتہ عازمینِ حج کو ڈھونڈنے والی موبائل ایپ تیار کرلی

ریاض : پاکستانی نوجوانوں نے حج مناسک کی ادائیگی کے دوران لاکھوں انسانوں کے سمندر میں لاپتہ عازمینِ حج کو ڈھونڈنے والی موبائل ایپ تیار کرلی۔ جس کی مدد سے بچھڑجانے والے شخص کا فوری طور پر پتہ لگایا جاسکے گا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت حجاج کرام اور عمرہ زائرین کو ہرممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے سعودی عرب نے اپنے تمام تر وسائل حجاج کرام اور عمرہ زائرین کے لیے وقف کردیے ہیں تاکہ وہ اپنے فرائض باآسانی ادا کرسکیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ریاست سمیت دنیا بھر سے سافٹ ویئر کے ماہرین کو سعودیہ بلوایا تھا تاکہ ایسی اپلیکیشنز بنوائی جاسکیں جو حج کی ادائیگی کے دوران عازمین کو پیش آنے والی مشکلات سے بچا سکیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودیہ جانے والے سافٹ ویئرز ماہرین میں دو پاکستانی شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے دو ایشیائی طالب علموں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ایپلی کیشن بنائی ہے جو دوران حج انسانوں کے سمندر میں لاپتہ ہونے والے عازمین حج کا پتہ لگائے گی۔

پاکستانی ماہرین سافٹ ویئرز کے مطابق مذکورہ ایپلیکیشن بلوتوتھ رسٹ بینڈ کے ذریعے کام کرے گی جو عازمین حج اپنے ہاتھوں میں گھڑیوں کی طرح پہنیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی خواتین کے ایک گروپ نے ایسا آلہ تیار کیا ہے جس کی مدد نے عجم عازمین حج عربی زبان کو باآسانی سمجھ سکیں گے۔

سعودی، یمنی اور ایریٹیریا کی 5 خواتین پر مشتمل ایک گروپ نے باہمی طور پر میڈیکل کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایپلی کیشن تیار کی ہے جو جیو ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے متاثرہ کو فوری تلاش کرے گا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ عازمین حج کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے 4 سعودی نوجوانوں نے کچرے کے ڈبوں پر لگانے کے لیے سنسر بنایا ہے جس کی مدد نے حکام کو ڈسٹ بن کے بھرجانے کا فوری علم ہوجائے گا۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے دنیا بھر سے 3 ہزار ماہرین سافٹ ویئرز کو متعدد ایپلی کیشز کی تیاری کے لیے مدعو کیا گیا تھا، بہترین ایپلیکیشن بنانے والے کو تقریب کے اختتام پر 20 لاکھ سعودی ریال انعام میں دیئے جائیں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2015 میں حج مناسک کے دوران بھگدڑ مچنے سے 2300 سے زائد عازمین حج جبکہ مکۃ المکرمہ میں کرین گرنے سے 100 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور  بھگڈر کے دوران بچھڑنے والے افراد کا کچھ پتہ نہیں لگا تھا۔ جس کے بعد سعودی حکام کو شدید تنقید نشانہ گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں