The news is by your side.

Advertisement

کتب خانہ رام پور اور مومن کی تصویر

کسی فن کار یا شاعر کی صلاحیتوں اور تخلیقی عوامل کو سمجھنے کے لیے اس کے حالاتِ زندگی اور ان کے توسط سے اس کی شخصیت اور سیرت کا مطالعہ اور تجزیہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حکیم مومن خاں مومن دہلوی کے زندگی کے تفصیلی حالات معلوم نہیں۔

ضمیرالدین احمد عرش گیاوی المعروف عرش گیاوی نے مومن کی سوانح عمری لکھنے کی ٹھانی، لیکن حیاتِ مومن کی کڑیاں غائب تھیں۔ انھیں ملانے کے لیے انھوں نے دن رات ایک کیے۔ نجانے کتنے لوگوں کی چوکھٹ پر حاضری دی۔ نجانے کتنے دروازوں پر دستکیں دیں۔ شہروں کی خاک چھانی، دہلی کی دھول پھانکی۔

عرش، مومن کی تصویر کے حصول کے لیے امیراللہ تسلیم لکھنوی کے پاس پہنچے، لیکن ان کی پیری(بڑھاپے اور ضعف) نے مایوس کیا۔ علی گڑھ کے راستے رام پور گئے۔ دورانِ سفر حسرت موہانی مل گئے۔ انھوں نے بتایا کہ مومن کی ایک تصویر کتب خانہ رام پور کی ملک ہے اور وہاں موجود ہے۔ پرانے لوگوں سے معلوم ہوا کہ مومن غدر سے بہت پہلے رام پور آئے تھے۔ اسی زمانے میں ان کی تصویر کھینچی گئی تھی۔ عرش لکھتے ہیں:

اس کے علاوہ میرے اک دیرینہ کرم فرما مولانا شاہ مبارک حسین مرحوم متوطن بہبوہ ضلع شاہ آباد کے فقیر، حکیم اور منجم بھی تھے اور عرصہ تک رام پور میں مقیم رہے تھے۔ مجھ سے آنکھوں کی دیکھی کہتے تھے کہ کتب خانے میں مومن کی وہ تصویر میں نے خود دیکھی تھی اور اس پر مومن کے قلم سے لکھے ہوئے کچھ شعر بھی دیکھے تھے۔چناں چہ شاہ صاحب نے بھی اپنی حیات میں بڑی کوشش کی مگر اخیر میں یہ سنا گیا کہ پرانے چوکھٹے سب ہٹا دیے گئے۔ غرض ان کے علاوہ ایک کیا صدہا کوششیں اس تصویر کے لیے کیں، اخبارات اور رسالوں میں تحریک کی، مگر وہ نہ ملی۔

مومن کی جو تصویر آج ہم تک پہنچی ہے، وہ مرزا فرحت اللہ بیگ دہلوی کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔

(معید رشیدی کی کتاب سے ایک ورق، مرزا غالب کے ہم عصر اور اردو زبان کے مشہور شاعر حکیم مومن خاں مومن کے اس تذکرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں‌ کسی شخصیت کے حالاتِ‌ زندگی معلوم کرنے اور کسی دوسرے شہر کے بسنے والے کی تحریر و تصویر کا حصول کس قدر مشکل تھا اور محقق کو سفر کی صعوبت کے ساتھ مال بھی خرچ کرنا پڑتا تھا)

Comments

یہ بھی پڑھیں